کراچی (اسٹاف رپورٹر) – وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت جمعرات، 2 اپریل 2026ء کو ایمرجنسی سروسز کے حوالے سے ایک اہم اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، صوبائی وزراء شرجیل انعام میمن، ناصر حسین شاہ، ضیاء الحسن لنجار، گیان چند اسرانی، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
ٹرمپ کی فرانسیسی صدر اور ان کی اہلیہ پر متنازعہ طنزیہ تنقید، خلیج میں تعاون پر بھی بیان
اجلاس میں سندھ بھر میں ہنگامی خدمات کے نظام کو مزید مؤثر، مربوط اور جامع بنانے کے لیے متعدد اقدامات پر غور کیا گیا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ انسانی جانوں اور املاک کا تحفظ حکومت کی اولین ذمہ داری ہے اور ہنگامی ردعمل کے نظام میں کسی بھی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے ہائی رسک عمارتوں میں فوری اصلاحی اقدامات یقینی بنانے اور تمام ایمرجنسی اداروں کو ایک متحد اور خودمختار اتھارٹی کے تحت لانے کی ہدایات جاری کیں۔
اجلاس میں ہنگامی خدمات کی جدید کاری کے لیے 30.8 ارب روپے کے بڑے منصوبے کی منظوری دی گئی، جس میں ریسکیو 1122 کا انضمام، جدید فائرفائٹنگ آلات کی خریداری اور نئی فائر اسٹیشنز کا قیام شامل ہے۔ منصوبے کے تحت 100 فائر ٹرکس، اسنارکلز، ایریل سیڑھیاں، ڈرونز، فائربائیکس اور آل ٹیرین گاڑیاں بھی فراہم کی جائیں گی۔
صوبے بھر میں 122 ٹیموں کے ذریعے فائر سیفٹی آڈٹ کیا گیا، جس میں 3340 عمارتوں کا جائزہ لیا گیا۔ ابتدائی ہدف سے زیادہ عمارتوں کی جانچ پڑتال کے بعد ہائی رسک عمارتوں کی تعداد 33 فیصد سے کم ہو کر 22 فیصد رہ گئی جبکہ فائر سیفٹی قوانین پر عملدرآمد کرنے والی عمارتوں کی شرح 43 فیصد تک پہنچ گئی۔ قوانین کی خلاف ورزی پر 3000 سے زائد نوٹسز جاری کیے گئے اور متعدد خطرناک عمارتوں کو سیل بھی کیا گیا۔
اجلاس میں ہنگامی خدمات میں اصلاحات کی سفارشات پیش کی گئیں، جس کے تحت ریسکیو 1122 اور پی ڈی ایم اے کو نئی اتھارٹی کے عملی بازو کے طور پر کام کرنے کی تجویز دی گئی۔ سول ڈیفنس، ایمرجنسی ہیلتھ اور معاوضہ نظام کو بھی ایک چھتری تلے لانے کی سفارشات کی منظوری دی گئی۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ جدید ایمرجنسی نظام کے نفاذ سے شہریوں کا تحفظ، اداروں میں ہم آہنگی اور ردعمل کے اوقات میں نمایاں بہتری آئے گی۔ انہوں نے ریسکیو 1122 اکیڈمی کے قیام اور عملے کی تربیت پر زور دیا اور نئی اتھارٹی کو قانونی حیثیت دینے کے لیے ایڈووکیٹ جنرل کی سربراہی میں پانچ رکنی کمیٹی قائم کر دی۔
وزیراعلیٰ سندھ نے اس موقع پر کہا کہ پیپلز پارٹی حکومت پیشہ ورانہ ہنگامی نظام کے قیام کی جانب پیش رفت کر رہی ہے اور ہر قسم کی آفات سے نمٹنے کے لیے جدید اور مربوط صلاحیت کو مضبوط بنایا جائے گا۔
