ایران میں اسرائیل کا اے آئی جنگی نظام

بین الاقوامی (مانیٹرنگ ڈیسک) – اسرائیل کی جانب سے ایران میں بڑے پیمانے پر اہداف کو نشانہ بنانے اور ایرانی قیادت کے خلاف ٹارگٹڈ کارروائیوں میں ایک نہایت خفیہ اور جدید مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی نظام کے استعمال کا انکشاف سامنے آیا ہے، جسے جاسوسی اور جنگی حکمت عملی میں ایک بڑی پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔

لانڈھی موبائل مارکیٹ سیل

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی ایک رپورٹ میں سینیئر اسرائیلی عسکری اور انٹیلی جنس حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ یہ جدید اے آئی نظام گزشتہ دہائی کی اہم ترین تکنیکی کامیابیوں میں شمار ہوتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ سسٹم اسرائیل کے وسیع انٹیلی جنس نیٹ ورک کا مرکزی حصہ ہے، جس میں موساد اور اسرائیلی فوج کا ایلیٹ سائبر یونٹ 8200 شامل ہیں۔

ذرائع کے مطابق گزشتہ کئی برسوں کے دوران ان اداروں نے ایران کے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر میں گہرائی تک رسائی حاصل کرتے ہوئے وسیع پیمانے پر حساس ڈیٹا جمع کیا، جسے انسانی سطح پر پراسیس کرنا ممکن نہیں تھا۔ اس ڈیٹا میں سکیورٹی اداروں، حکومتی نظام، ٹریفک کیمروں، ادائیگی کے پلیٹ فارمز اور دیگر اہم نیٹ ورکس کی معلومات شامل تھیں۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ اس خفیہ آپریشن کی بنیاد تقریباً پانچ سال قبل اس وقت رکھی گئی، جب ایران اور اسرائیل کے درمیان سائبر حملوں کا تبادلہ جاری تھا۔ بظاہر اسرائیل نے محدود نوعیت کے اقدامات کرتے ہوئے ایران میں اسٹریٹ لائٹس، پیٹرول پمپس اور اے ٹی ایمز کو متاثر کیا، تاہم اسی دوران یونٹ 8200 نے خاموشی سے ایران کے اہم ڈیجیٹل نظام میں دراندازی کر لی۔

ذرائع کے مطابق ایران کے اندرونی سکیورٹی نظام اور کمیونی کیشن نیٹ ورکس میں مرکزی کنٹرول کے قیام، جسے ’انٹرنیٹ کِل سوئچ‘ کہا جاتا ہے، نے بھی بالواسطہ طور پر اسرائیلی انٹیلی جنس کو فائدہ پہنچایا۔ اس مرکزی نظام کے ذریعے اسرائیلی اہلکار حکومتی عہدیداروں، سکیورٹی اہلکاروں اور ان کے اہل خانہ کی ای میلز، فون کالز اور دیگر پیغامات تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔

رپورٹ کے مطابق جدید اے آئی پلیٹ فارم مسلسل اس وسیع ڈیٹا کا تجزیہ کرتا رہا اور ایرانی قیادت کی نقل و حرکت، روزمرہ معمولات اور رویوں سے متعلق انتہائی درست اور فوری معلومات فراہم کرتا رہا۔ یہی ٹیکنالوجی اسرائیل کو میدان جنگ میں غیر معمولی برتری فراہم کرنے کا سبب بنی۔

بتایا گیا ہے کہ اس سسٹم کی مدد سے اسرائیلی فوج دورانِ پرواز بھی سپرسونک میزائلوں کا رخ تبدیل کر کے متحرک اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ایک مثال کے طور پر گزشتہ برس ایران-اسرائیل کشیدگی کے دوران پاسدارانِ انقلاب کے ایرو اسپیس کمانڈر امیر علی حاجی زادہ کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ اپنے دفتر سے قریبی رہائش گاہ کی جانب جا رہے تھے۔

رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ جنگ کے آغاز سے اب تک اسرائیل اسی اے آئی نظام کی مدد سے 250 سے زائد ایرانی اعلیٰ عہدیداروں کو نشانہ بنا چکا ہے، جو جدید ٹیکنالوجی کے جنگی استعمال کی ایک نمایاں مثال قرار دی جا رہی ہے۔

دفاعی ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت کا اس پیمانے پر استعمال مستقبل کی جنگوں کے انداز کو یکسر تبدیل کر سکتا ہے، جہاں روایتی ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل برتری فیصلہ کن کردار ادا کرے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!