امیگریشن حکام کے مطابق مسافر وزٹ ویزے پر آذربائیجان جا رہے تھے، ابتدائی تحقیقات میں مبینہ غیر مجاز ٹریول ایجنٹس، مالی لین دین اور بیرون ملک ملازمت کے نام پر رقم وصول کرنے کے شواہد سامنے آئے۔
کراچی ایئرپورٹ پر ایف آئی اے امیگریشن نے آذربائیجان جانے والے دو مسافروں کو امیگریشن کلیئرنس کے دوران روک لیا۔ حکام نے مشکوک سفری معلومات سامنے آنے پر مزید تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
ترجمان ایف آئی اے کے مطابق دونوں مسافروں کی شناخت اظہر علی پنہور اور اسداللہ کے نام سے ہوئی۔ دونوں کا تعلق ضلع دادو، سندھ سے ہے۔ وہ پاکستانی پاسپورٹ پر وزٹ ویزا کے ذریعے آذربائیجان جا رہے تھے۔
ابتدائی جانچ کے دوران اظہر علی پنہور نے بتایا کہ ان کے والد غلام یاسین سندھ پولیس میں ملازم ہیں۔ وہ اس وقت پاسپورٹ آفس دادو میں تعینات ہیں۔
ترجمان کے مطابق مسافر نے بتایا کہ اس کے والد نے اس کا رابطہ سلیم نامی شخص سے کرایا۔ بعد ازاں سلیم نے اسے مبینہ ٹریول ایجنٹس راجہ اور سعید سے ملوایا۔
تحقیقات کے مطابق دونوں مسافر آذربائیجان میں موجود سعید نامی شخص سے بھی رابطے میں تھے۔ حکام اس شخص کے کردار کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔
مسافروں نے بتایا کہ راجہ نامی شخص نے چار افراد کو وزٹ ویزے پر آذربائیجان بھیجنے کی پیشکش کی۔ اس کے بدلے ہوٹل مینجمنٹ میں ملازمت دلانے کا دعویٰ بھی کیا گیا۔
ترجمان کے مطابق اس مقصد کے لیے 18 لاکھ روپے طلب کیے گئے۔ مسافروں کے بقول ابتدائی طور پر 14 لاکھ روپے ادا کیے گئے تھے۔
کارروائی کے وقت صرف دو مسافر سفر کر رہے تھے۔ دیگر دو افراد، جہانگیر اور عرفان، بعد میں روانہ ہونے والے تھے۔
ایف آئی اے کے مطابق رقم اظہر علی پنہور کے والد نے بینک اکاؤنٹ کے ذریعے ادا کی۔ حکام مالی لین دین، بینک ریکارڈ اور دیگر ملوث افراد کے کردار کی مزید چھان بین کر رہے ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ ابتدائی تحقیقات سے وزٹ ویزے کے ممکنہ غلط استعمال اور غیر مجاز ایجنٹس کے ذریعے بیرون ملک ملازمت کے نام پر رقم وصول کرنے کے شواہد ملے ہیں۔
ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ تمام ملوث افراد کی شناخت، مالی ریکارڈ کی تصدیق اور متعلقہ قوانین کے تحت مزید قانونی کارروائی جاری ہے۔