حکومتِ سندھ کی مؤثر اور نتیجہ خیز سرینڈر پالیسی کے مثبت نتائج واضح طور پر سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے کہا ہے کہ ضلع کشمور میں 26 خطرناک اور مطلوب ڈاکوؤں نے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں، جبکہ اس سے قبل سکھر میں بھی 12 ڈاکو خود کو قانون کے حوالے کر چکے ہیں، جس کے بعد مجموعی طور پر 38 ڈاکوؤں کا سرینڈر ہونا ریاستی رِٹ کی مضبوطی کا عملی ثبوت ہے۔
عرسِ قلندر لعل شہباز سے قبل سیہون میں منشیات کے خلاف بڑی کارروائی، 10 منشیات فروش گرفتار، کروڑوں کی منشیات برآمد
وزیر داخلہ سندھ کے مطابق کچے کے علاقوں میں جاری میگا آپریشن کے باعث جرائم پیشہ عناصر شدید دباؤ اور خوف کا شکار ہیں، جبکہ ریاستی عملداری مسلسل مضبوط ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امن و امان کے مکمل قیام اور جرائم کے خاتمے تک پولیس، سندھ رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کا مشترکہ آپریشن پوری قوت کے ساتھ جاری رہے گا، اور وقت کے ساتھ ساتھ یہ میگا آپریشن مزید تیز، مؤثر اور فیصلہ کن ہوتا جائے گا۔
ضیاء الحسن لنجار نے جرائم پیشہ عناصر کو دوٹوک پیغام دیتے ہوئے کہا:
“ڈاکوؤں سے کہتا ہوں کہ میگا آپریشن کی زد میں آنے کے بجائے سرینڈر کر دیں اور ہتھیار پھینک دیں۔ حکومتِ سندھ نے امن کا راستہ دکھا دیا ہے، عمل کریں گے تو خوش آمدید کہیں گے، بعد میں پچھتانے سے بہتر ہے کہ ابھی سرینڈر پالیسی سے فائدہ اٹھائیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ ٹرائی جنکشن بارڈر اور کچہ ایریاز میگا آپریشن کے خصوصی اہداف ہیں اور ڈاکوؤں، ان کی کمین گاہوں اور سہولت کاروں کا خاتمہ ناگزیر ہے۔ سندھ حکومت اپنے ٹھوس عزم اور واضح اہداف کے ساتھ آخری ڈاکو کے خاتمے تک کارروائیاں جاری رکھے گی۔
وزیر داخلہ سندھ نے ڈی آئی جی، ایس ایس پی کشمور اور ان کی پوری ٹیم کی شاندار، پیشہ ورانہ اور بے مثال کارکردگی کو سراہتے ہوئے انہیں شاباش دی، جبکہ سندھ رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پولیس کے شانہ بشانہ کردار کو بھی لائقِ تحسین قرار دیا۔
تفصیلات کے مطابق ضلع کشمور میں پولیس، سندھ رینجرز اور دیگر اداروں کی مشترکہ کارروائی کے نتیجے میں سرینڈر کرنے والے ڈاکوؤں میں شامل ہیں:
عبد الرحیم عرف اڈرو شر، تاج محمد ولد قیصر شر، عبدالمجید ولد علی حسن شر، اللہ دین ولد باگو شر، جمال دین ولد باجھی شر، محمد نواز عرف شادو ولد لالن شر، آصف بھیو ولد شاہنواز بھیو، غوث بخش ولد نور حسن بھیو، یعقوب ولد محمد بخش، وسیم ولد عرض محمد بھیو، یار محمد ولد علی محمد بھیو، ارشاد ولد علی محمد بھیو، عاشق عرف معشوق ولد شاہنواز بھیو، امتیاز علی ولد دوست علی بھیو، محمد علی ولد شاہ میر بھیو، ظفر علی ولد اللہ ڈنو بھیو، منظور ولد پیارو بھیو، عبدالسلام ولد صوبدار بھیو، محمد قاسم ولد شفیع محمد شر، ثناء اللہ ولد شفیع محمد شر، عبدالعزیز ولد بدیھل شر، صادق ولد رحمان شر، اللہ بخش ولد غلام نبی شر، عبد الرحیم عرف اڈرو ولد تاج محمد شر، ذوالفقار عرف بھٹو ولد بشیر احمد سبزوئی، واجد ولد فقیر محمد سبزوئی۔
پولیس کے مطابق یہ تمام ملزمان اغواء برائے تاوان، بھتہ خوری، قتل، اقدامِ قتل، پولیس مقابلوں اور دیگر سنگین جرائم میں ملوث رہے ہیں۔
وزیر داخلہ سندھ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سندھ حکومت عوام کے جان و مال کے تحفظ، جرائم کے مکمل خاتمے اور صوبے میں دیرپا امن کے قیام کے لیے پرعزم ہے اور اس مقصد کے حصول تک کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی۔
