ابوظہبی/صنعا: متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی وزارت دفاع نے پیر کو اعلان کیا کہ اس نے یمن میں تعینات اپنے انسداد دہشت گردی یونٹس کا مشن رضاکارانہ طور پر ختم کر دیا ہے۔ وزارت دفاع کے مطابق یہ فیصلہ حالیہ پیش رفت اور جامع جائزے کے بعد کیا گیا۔
کراچی: ضلع جنوبی میں غیرقانونی تعمیرات، SBCA نے 60 سے زائد افسران کو شوکاز نوٹس جاری کر دیے
بیان میں کہا گیا ہے کہ یو اے ای نے 2019 میں یمن سے اپنی فوج واپس بلالی تھی، تاہم انسداد دہشت گردی کے لیے کچھ خصوصی یونٹس یمن میں تعینات رہیں۔ اس اقدام سے قبل یمن کی صدارتی کونسل (پی ایل سی) کے سربراہ رشاد العلیمی نے یو اے ای کے ساتھ مشترکہ دفاعی معاہدہ منسوخ کرنے کا اعلان کیا تھا اور یمن میں موجود تمام یو اے ای فورسز کو 24 گھنٹوں میں ملک چھوڑنے کا حکم دیا تھا۔
رشاد العلیمی نے مزید کہا کہ یمن کی تمام بندرگاہوں اور زمینی و بحری گزرگاہوں پر 72 گھنٹوں کے لیے مکمل فضائی، زمینی اور بحری ناکہ بندی نافذ کی جائے گی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ احکامات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب سعودی قیادت میں قائم ملٹری اتحاد نے یمن میں محدود فضائی کارروائی کی، جس میں مکلا بندرگاہ کو نشانہ بنایا گیا۔
سعودی وزارت خارجہ نے بھی یو اے ای سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یمنی حکومت کے مطالبے کے مطابق 24 گھنٹے میں اپنی فوج یمن سے واپس بلائے اور کسی بھی فریق کو عسکری یا مالی معاونت کا عمل فوری طور پر بند کرے۔ سعودی اتحاد کے مطابق موجودہ کارروائی یو اے ای کی حمایت یافتہ جنوبی علیحدگی پسند تنظیم، سدرن ٹرانزیشنل کونسل (STC) کو فراہم کی جانے والی غیر ملکی فوجی معاونت کے خلاف کی گئی۔
