عدالت میں پیشی کے دوران ڈاکٹر وردا مشتاق قتل کیس کے تین ملزمان نے اپنے خلاف عائد تمام الزامات کی تردید کر دی، جبکہ ایک ملزم نے مجسٹریٹ کے سامنے اعترافی بیان قلمبند کرا دیا۔
گھوٹکی میں مسافر بس پر ڈاکوؤں کا حملہ 19 افراد اغوا 10 مغوی بحفاظت بازیاب
پولیس نے پیر کے روز جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے کے بعد چار ملزمان ردا جدون، اس کے شوہر وحید عرف بلّا، ندیم اور پرویز کو جوڈیشل مجسٹریٹ کے روبرو پیش کیا۔ سماعت کے دوران ردا جدون اور وحید نے خود کو بے گناہ قرار دیتے ہوئے قتل کے الزام کو مسترد کر دیا۔ ملزم ندیم نے بھی کیس سے کسی قسم کے تعلق سے انکار کیا۔
تاہم ملزم پرویز نے عدالت کے سامنے اعترافی بیان ریکارڈ کرایا، جسے تفتیشی حکام اور استغاثہ نے آئندہ تحقیقات کے لیے اہم قرار دیا ہے۔
پولیس کی جانب سے ملزمان کے جسمانی ریمانڈ میں مزید توسیع کی درخواست کی گئی، مگر خصوصی انسداد دہشت گردی عدالت نے درخواست مسترد کرتے ہوئے تمام ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق کیس کا مرکزی ملزم شمریز اتوار کی شب مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہو گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ مقابلہ تھانہ نواں شہر کی حدود میں تھنڈیانی کے قریب مائرہ رحمت خان کے علاقے میں اس وقت پیش آیا جب کینٹونمنٹ اور نواں شہر پولیس کی مشترکہ ٹیمیں مفرور ملزم کو گرفتار کرنے کی کارروائی کر رہی تھیں۔
پولیس کے مطابق آپریشن کے دوران شمریز کے ساتھیوں نے پولیس پارٹی پر فائرنگ کی، جوابی فائرنگ کے دوران شمریز مبینہ طور پر اپنے ہی ساتھیوں کی گولیوں کا نشانہ بن کر موقع پر ہلاک ہو گیا، جبکہ اس کے دو ساتھی اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہو گئے۔ جائے وقوع سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔
ملزم کی لاش پوسٹ مارٹم کے لیے ایوب ٹیچنگ اسپتال منتقل کر دی گئی، جبکہ فرار ملزمان کے خلاف علیحدہ مقدمہ درج کر کے ان کی گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔
مرکزی ملزم کی عدالتی کارروائی سے قبل ہلاکت پر قانونی حلقوں اور عوامی سطح پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے، کیونکہ خیال کیا جا رہا تھا کہ اس کے پاس قتل کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری سے متعلق اہم معلومات موجود تھیں۔
عدالت سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ دستیاب شواہد، اعترافی بیانات اور پولیس تحقیقات کی روشنی میں کیس کا تفصیلی جائزہ لے کر ملوث تمام افراد کو قانون کے مطابق انصاف کے کٹہرے میں لائے گی۔
