چین عالمی قرضوں کا نقشہ بدلنے لگا: امریکا سب سے بڑا قرض وصول کنندہ، پاکستان پانچویں نمبر پر

واشنگٹن/بیجنگ — ایک حالیہ عالمی مطالعے میں انکشاف ہوا ہے کہ امریکا چین سے قرض وصول کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک بن کر سامنے آیا ہے، جبکہ پاکستان 74 ارب ڈالر کے ساتھ پانچویں نمبر پر ہے۔ تحقیق کے مطابق چین اب ترقی پذیر ممالک کے بجائے زیادہ آمدنی والے ممالک کو قرض فراہم کرنے کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

ماہرہ خان کا میڈیا پر صبا قمر کے ساتھ جھوٹی رقابت بنانے کا الزام: “ان کے ساتھ کام کرنا خوشی کی بات ہوگی”

یہ رپورٹ امریکی یونیورسٹی ولیم اینڈ میری کے تحقیقی ادارے ایڈ ڈیٹا (AidData) نے جاری کی، جس میں بتایا گیا ہے کہ 2000 سے 2023 کے دوران چین نے 200 ممالک کو مجموعی طور پر 22 کھرب ڈالر کے قرضے اور گرانٹس فراہم کیے۔

پاکستان چین کے سب سے بڑے قرض وصول کنندگان میں شامل

مطالعے کے مطابق پاکستان نے گزشتہ 23 برسوں میں چین سے 74 ارب ڈالر وصول کیے، جس کے بعد پاکستان دنیا کا پانچواں بڑا چینی قرض وصول کنندہ ملک ہے۔ اس فہرست میں سامنے آنے والے ممالک میں اعلیٰ آمدنی والے ممالک بھی نمایاں ہیں، جو چین کی پالیسی میں تبدیلی کا ثبوت ہے۔

امریکا 200 ارب ڈالر سے زائد کا سب سے بڑا سرکاری قرض وصول کنندہ

رپورٹ کے مطابق امریکا نے چین سے 2500 سے زیادہ منصوبوں کے لیے 200 ارب ڈالر سے زائد قرضہ حاصل کیا — جو کسی بھی ملک کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔
چینی سرکاری اداروں کی امریکی سرمایہ کاری میں شامل ہیں:

ٹیکساس اور لوزیانا میں ایل این جی منصوبے

شمالی ورجینیا میں ڈیٹا سینٹرز

نیویارک کے جے ایف کے ایئرپورٹ اور ایل اے انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے ٹرمینل

میٹرہورن ایکسپریس گیس پائپ لائن

ڈکوٹا ایکسس آئل پائپ لائن

مزید یہ کہ بیجنگ نے ایمازون، اے ٹی اینڈ ٹی، ویرائزون، ٹیسلا، جنرل موٹرز، فورڈ، بوئنگ اور ڈزنی جیسی بڑی کمپنیوں کو بھی مالی سہولتیں فراہم کیں۔

چین کی قرض پالیسی میں بڑی تبدیلی

ایڈ ڈیٹا کے مطابق چین کی بیرون ملک قرض دینے کی حکمتِ عملی میں نمایاں تبدیلی آئی ہے:

2000 میں:

کم آمدنی والے ممالک کو قرض کا حصہ → 88%

2023 میں:

کم آمدنی والے ممالک کا حصہ → 12%

مڈل اور ہائی انکم ممالک کا حصہ → 76%

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بیجنگ اب عالمی جنوب کے ترقی پذیر ممالک کے بجائے اہم بنیادی ڈھانچے، ہائی ٹیک سپلائی چین، اہم معدنیات اور سیمی کنڈکٹرز جیسے شعبوں میں زیادہ توجہ دے رہا ہے۔

یورپ اور برطانیہ بھی بڑے وصول کنندگان

رپورٹ کے مطابق:

یورپی یونین → 161 ارب ڈالر

برطانیہ → 60 ارب ڈالر

یہ اضافہ چین کی توجہ کو اسٹریٹجک، ٹیکنالوجیکل اور عالمی مسابقت والے شعبوں کی جانب منتقل ہوتے دکھاتا ہے۔

ایڈ ڈیٹا کی وضاحت

رپورٹ کے مرکزی مصنف بریڈ پارکس نے کہا:

"دولت مند ممالک کو دیے جانے والے زیادہ تر قرضے اہم بنیادی ڈھانچے، اہم معدنیات اور ہائی ٹیک اثاثوں کے حصول پر مرکوز ہیں۔”

نتیجہ

یہ رپورٹ واضح کرتی ہے کہ چین اب صرف ’بیلٹ اینڈ روڈ‘ کے تحت ترقی پذیر ممالک کو ہی قرض نہیں دے رہا بلکہ عالمی سطح پر بڑی معیشتوں اور جدید ٹیکنالوجی کے حامل ممالک میں اپنی مالی موجودگی بڑھا رہا ہے — جو عالمی طاقت کے توازن پر گہرے اثرات ڈال سکتی ہے۔

54 / 100 SEO Score

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!