اطالوی حکام کے مطابق بحیرہ روم میں ایک کشتی حادثے کے دوران پاکستان اور صومالیہ کے 2 افراد جاں بحق ہوگئے جبکہ 90 سے زائد تارکینِ وطن کو زندہ بچا لیا گیا۔
Monday, 20th October 2025
یہ کارروائی اُس وقت شروع ہوئی جب یورپی بارڈر ایجنسی فرنٹیکس (Frontex) کے نگرانی طیارے نے 16 ناٹیکل میل (تقریباً 30 کلومیٹر) کے فاصلے پر کشتی کا سراغ لگایا۔ اطلاع ملتے ہی اطالوی کوسٹ گارڈ نے دو پیٹرول بوٹس کے ذریعے امدادی کارروائی شروع کی۔
کوسٹ گارڈ کے مطابق 85 مرد، ایک خاتون اور پانچ کم عمر بچوں کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا، جب کہ دو افراد کی لاشیں کشتی کے نچلے حصے سے برآمد ہوئیں۔
14 زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا ہے جن میں سے تین کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق دونوں اموات پٹرول کے دھوئیں سے دم گھٹنے کے باعث ہوئیں۔
اطالوی حکام کا کہنا ہے کہ متاثرین میں زیادہ تر کا تعلق پاکستان اور صومالیہ سے ہے۔
اٹلی کی وزارتِ داخلہ کے اعداد و شمار کے مطابق 17 اکتوبر 2025 تک 55 ہزار 948 تارکینِ وطن سمندر کے راستے اٹلی پہنچ چکے ہیں — جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں زیادہ تعداد ہے۔
ماہرین کے مطابق بحیرہ روم کا مرکزی راستہ (اٹلی، مالٹا، لیبیا اور تیونس کے درمیان) یورپ کی جانب ہجرت کا سب سے خطرناک راستہ تصور کیا جاتا ہے، جہاں ہر سال درجنوں افراد پانی کی کمی، دم گھٹنے یا انجن کے دھوئیں سے جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔
