رپورٹ کے مطابق پنجاب اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے زراعت کا اجلاس چیئرمین سید طارق حسین کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں زرعی یونیورسٹی فیصل آباد (یو اے ایف) کے وائس چانسلر نے زرعی ترقی، موسمیاتی چیلنجز اور تحقیقاتی کامیابیوں پر مبنی جامع بریفنگ دی۔
پنجاب اسمبلی میں ہوشربا انکشاف 12 اضلاع کے پولیس اسٹورز سے 24 کروڑ سے زائد کا اسلحہ غائب
وائس چانسلر نے بتایا کہ یونیورسٹی کے مستقبل کے منصوبے موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے، آبی وسائل کے مؤثر استعمال، میکانائزیشن کے فروغ، اور مصنوعی ذہانت سے چلنے والے موسمیاتی اسمارٹ ماڈلز پر مبنی ہیں۔ بیج کی ترقی، عوامی شعور، تعلیم، اور ٹیکنالوجی کی مدد سے قومی غذائی تحفظ کو مستحکم بنانا یونیورسٹی کے ترجیحی اہداف میں شامل ہے۔
تحقیقاتی کامیابیاں:
سبزیوں کی پیداوار کے لیے نئی اقسام: ‘یو اے ایف-11’ (براسیکا) اور ‘اوکرا-3اے’۔
سویا بین، مکئی کے ہائبرڈز، آم، لیموں، اور جینیاتی طور پر بہتر گنے کی اقسام پر تحقیق۔
135 جاری منصوبے، جن میں 84 بین الاقوامی اور 51 قومی سطح کے ہیں۔
ڈی-8 اور او آئی سی ممالک کے لیے چینی زبان کی تربیت جیسے آؤٹ ریچ پروگرامز۔
کمیٹی کا تحفظ:
کمیٹی نے پی ایس ڈی پی منصوبے کے تحت گنے کی فی ایکڑ پیداوار میں 600–700 من کے دعوے کو مشکوک قرار دیا، اور نشاندہی کی کہ شوگر ملز کی جانب سے کم رپورٹنگ کے باعث یہ ڈیٹا ناقابلِ اعتبار ہو سکتا ہے۔ اربوں روپے کی سرمایہ کاری کے باوجود اس قدر معمولی بہتری کو "وسائل اور وقت کا ناکافی فائدہ” قرار دیا گیا۔
چیلنجز اور اقدامات:
وائس چانسلر نے پالیسی کی عدم ہم آہنگی، بجٹ کی محدودیت، سیکیورٹی مسائل اور وزارت و اداروں کے درمیان ناقص ربط کو زرعی ترقی میں رکاوٹ قرار دیا۔ تاہم، اے ڈی بی اور دیگر بین الاقوامی اداروں کے ساتھ مل کر ڈی اے پی کھاد کی مقامی پیداوار، شمسی توانائی، درست زراعت اور ڈیجیٹل زرعی توسیع پر کام جاری ہے۔
جدید سہولیات:
پی ایس ڈی پی اور اے ڈی بی کی مالی معاونت سے بیج کی جانچ و سرٹیفکیشن کے لیے جدید لیبارٹریز قائم کی جا رہی ہیں تاکہ برآمدی معیارات پر پورا اترا جا سکے۔ جدید تحقیق میں مصنوعی ذہانت، ڈرونز، اور سینسرز کا استعمال کیا جا رہا ہے۔
پالیسی رہنمائی:
چیئرمین کمیٹی سید طارق حسین نے فصلوں کے لائف سائیکل کو مختصر کرنے، کیڑے مار ادویات کے استعمال میں کمی، اور پانی کے مؤثر استعمال کی ضرورت پر زور دیا تاکہ کسانوں کے مالی بوجھ میں کمی آئے۔
