اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس سردار اعجاز اسحاق نے 12 صفحات پر مشتمل ایک اہم تحریری فیصلہ جاری کیا ہے۔ اس فیصلے میں دو رکنی بینچ نے واضح کیا ہے کہ کیسز کی مارکنگ اور ان کی سماعت کے لیے متعلقہ بینچز میں مقرر کرنے کے عمل میں عدالتی گائیڈ لائنز کا مکمل خیال رکھا جائے۔
مفتی تقی عثمانی کا امت مسلمہ سے مطالبہ: “قراردادوں کے بجائے اسرائیل کے خلاف جہاد کا اعلان کیا جائے”
عدالت نے ڈپٹی رجسٹرار جوڈیشل کو ہدایت کی ہے کہ قائم مقام چیف جسٹس کی جانب سے ڈویژن بینچ میں بھیجے گئے کیسز کو دوبارہ متعلقہ بینچز میں بھیجا جائے۔ اس فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جب تک فل کورٹ ہائیکورٹ رولز پر حتمی رائے نہیں دیتا، تب تک موجودہ عدالتی گائیڈ لائنز پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔
فیصلے میں مزید وضاحت کی گئی ہے کہ قانونی معاملات کی تشریح یا یکساں نوعیت کے کیسز کی بنیاد پر ہی خصوصی اختیارات استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ کیسز کو مقرر یا مارک کرنے کا اختیار ڈپٹی رجسٹرار جوڈیشل کے پاس ہے، جبکہ روسٹر کی منظوری دینا چیف جسٹس کا اختیار ہے۔
