اسلام آباد (تشکر نیوز): مدارس کی رجسٹریشن اور اصلاحات کے حوالے سے حکومت اور مذہبی قیادت میں اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں۔ پی ٹی آئی کے دورِ حکومت میں 2019 میں ہونے والے معاہدے پر عمل درآمد کی کوششوں کو جمعیت علمائے اسلام (ف) نے مسترد کرتے ہوئے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔
آزاد کشمیر حکومت کا متنازع صدارتی آرڈیننس واپس، عوامی احتجاج اختتام پذیر
مولانا فضل الرحمٰن نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ یہ "مدارس کا قتل عام” کرنے کی ایک سازش ہے اور جبری اصلاحات کو مدارس کے خلاف منصوبہ بند اقدام قرار دیا۔
معاہدے کی تفصیلات
یہ معاہدہ، جو پی ٹی آئی حکومت میں طے پایا، تمام مدارس کو وزارت تعلیم کے ساتھ رجسٹریشن کا پابند کرتا ہے، جبکہ غیر ملکی طلبہ کے لیے اجازت، یکساں نصاب تعلیم، اور مالی شفافیت کے اقدامات شامل ہیں۔
امریکی سفارتخانے نے بی جے پی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے آزاد میڈیا کی حمایت پر زور دیا
علماء کا موقف
مولانا فضل الرحمٰن نے نوشہرہ میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا:
"ہم نے کبھی ریاست سے تصادم کی حمایت نہیں کی، مگر مدارس پر زبردستی قوانین نافذ کرکے ہمیں مجبور کیا جا رہا ہے۔”
حکومت کا جواب
حکومت کا کہنا ہے کہ مدارس کو جدید تعلیمی نظام میں شامل کرنا قومی مفاد میں ہے اور ان اقدامات کا مقصد شدت پسندی کے خاتمے اور تعلیمی معیار کو بہتر بنانا ہے۔
نتائج کی پیش گوئی
یہ تنازعہ مدارس اور حکومت کے درمیان اعتماد کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اگر اس مسئلے کو بات چیت کے ذریعے حل نہ کیا گیا تو یہ ایک بڑا سیاسی اور سماجی بحران بن سکتا ہے۔
