اسلام آباد: بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ بھارت پاکستان کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور گزشتہ سال ہونے والی کشیدگی میں ناکامی کے بعد اب نئی حکمت عملی کے تحت دباؤ بڑھانے کی بات کر رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بھارت کو اپنی شکست ہضم نہیں ہو رہی اور اسی لیے مسلسل سخت بیانات سامنے آ رہے ہیں۔
بلاول بھٹو نے یہ بات پیپلز پارٹی کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے ملکی سکیورٹی، وفاقی بجٹ، گلگت بلتستان کے انتخابات اور کشمیر کی صورتحال سمیت مختلف قومی امور پر اظہار خیال کیا۔
بلاول بھٹو کا بھارت سے متعلق مؤقف
پارلیمانی اجلاس سے خطاب میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ بھارت پاکستان کے خلاف جارحانہ رویہ اختیار کیے ہوئے ہے۔ ان کے مطابق بھارت اب "آپریشن سندور ٹو” کی بات کر رہا ہے اور مختلف طریقوں سے پاکستان پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال ہونے والی کشیدگی میں بھارت کو مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوئے۔ ان کے بقول یہی وجہ ہے کہ بھارتی قیادت مسلسل پاکستان کے خلاف بیانات دے رہی ہے۔
بلاول بھٹو اور سکیورٹی چیلنجز
بلاول بھٹو نے کہا کہ وفاقی بجٹ ایک ایسے ماحول میں پیش کیا گیا ہے جب ملک کو متعدد چیلنجز کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان چیلنجز میں سب سے اہم قومی سلامتی اور سکیورٹی کی صورتحال ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو اندرونی اور بیرونی خطرات کا سامنا ہے، لہٰذا قومی سطح پر اتفاق رائے اور سیاسی استحکام کی ضرورت پہلے سے زیادہ بڑھ گئی ہے۔
پارلیمانی پارٹی اجلاس میں اہم امور
پیپلز پارٹی چیئرمین کے مطابق اجلاس میں وفاقی بجٹ 2026-27، گلگت بلتستان کے انتخابات اور مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی غور کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ پارٹی قیادت نے مختلف قومی اور سیاسی معاملات پر ارکان کی آراء بھی سنی اور آئندہ حکمت عملی کے حوالے سے مشاورت کی گئی۔
بجٹ اجلاس میں شرکت سے متعلق وضاحت
بلاول بھٹو زرداری نے بتایا کہ ابتدائی طور پر پارٹی کا مؤقف تھا کہ جب تک بعض تحفظات دور نہیں ہوتے، بجٹ اجلاس میں شرکت مناسب نہیں ہوگی۔ تاہم بعد ازاں حکومتی نمائندوں کی جانب سے رابطہ کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور وفاقی وزیر داخلہ نے پیپلز پارٹی سے رابطہ کیا اور بجٹ اجلاس میں شرکت کی درخواست کی۔ ان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے یقین دہانی کرائی کہ پارٹی کے تحفظات جلد دور کیے جائیں گے۔
حکومتی یقین دہانی پر اجلاس میں شرکت
بلاول بھٹو نے کہا کہ حکومتی یقین دہانی کے بعد پیپلز پارٹی نے پارلیمانی عمل میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری نظام میں مذاکرات اور مشاورت کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کرنا ضروری ہوتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی عوامی مسائل، قومی سلامتی اور جمہوری عمل کے استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی اور اہم قومی معاملات پر اپنی تجاویز پیش کرتی رہے گی۔