ایرانی وزارت خارجہ نے ان رپورٹس کی تردید کی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ 3 ارب ڈالر مالیت کے ایرانی اثاثے ابوظبی سے تہران منتقل کر دیے گئے ہیں۔
ایران کا امریکی اڈوں پر میزائل حملوں کا دعویٰ، ویڈیو منظرِ عام پر آگئی
غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق بعض اسرائیلی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایران کے منجمد مالی اثاثوں کی بڑی رقم متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظبی سے تہران منتقل کی گئی ہے۔
تاہم ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ منجمد اثاثوں کو خطے کے دیگر ممالک میں منتقل کیے جانے یا ان کی منتقلی سے متعلق تمام خبریں بے بنیاد ہیں۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ اس نوعیت کی رپورٹس حقیقت پر مبنی نہیں بلکہ مخالف فریقوں کی جانب سے چلائی جانے والی میڈیا اور پروپیگنڈا مہم کا حصہ ہیں، جن کا مقصد گمراہ کن تاثر پیدا کرنا ہے۔
ایرانی ترجمان نے مزید کہا کہ ملک کے مالی اثاثوں اور ان سے متعلق معاملات کے بارے میں غیر مصدقہ اطلاعات پر یقین نہیں کیا جانا چاہیے اور عوام کو صرف سرکاری ذرائع سے جاری ہونے والی معلومات پر اعتماد کرنا چاہیے۔
واضح رہے کہ حالیہ دنوں ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں مختلف دعوے اور جوابی بیانات سامنے آ رہے ہیں، تاہم مذکورہ مالی اثاثوں کی منتقلی سے متعلق دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔