ایران کی جانب سے خطے میں امریکی فوجی اڈوں پر کیے گئے مبینہ میزائل حملوں کی ویڈیو منظرِ عام پر آگئی ہے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
مری ایکسپریس وے پر سیاحوں کی وین حادثے کا شکار، 10 افراد جاں بحق
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی حالیہ امریکی حملوں کے جواب میں کی گئی۔ ایرانی فوجی کمان خاتم الانبیا ہیڈکوارٹرز کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ خطے میں موجود بعض امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا اور یہ اقدام جنوبی ایران میں امریکی جارحیت کے ردِعمل کے طور پر کیا گیا۔
ایرانی میڈیا کی جانب سے نشر کی گئی ویڈیو میں مختلف میزائلوں کے لانچ ہونے اور اہداف کی جانب بڑھنے کے مناظر دکھائے گئے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق حملوں میں قدر، عماد اور خیبر شکن میزائل استعمال کیے گئے۔
ایرانی ذرائع ابلاغ کا دعویٰ ہے کہ میزائل حملوں کا ہدف بحرین اور اردن میں موجود امریکی فوجی تنصیبات تھیں۔ تاہم اس حوالے سے امریکی حکام کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
علاقائی اور بین الاقوامی مبصرین کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ کشیدگی نے مشرقِ وسطیٰ کی سکیورٹی صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے، جبکہ دونوں ممالک کے بیانات اور اقدامات پر عالمی برادری گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
آزاد ذرائع سے حملوں کی تمام تفصیلات اور نقصانات کی مکمل تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی، جبکہ مختلف فریقین کی جانب سے صورتحال سے متعلق مزید معلومات جاری کیے جانے کا امکان ہے۔