کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مبینہ مرکزی رہنماؤں کی ایک آڈیو سامنے آنے کے بعد سیاسی و انتظامی حلقوں میں تشویش پیدا ہو گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق مبینہ آڈیو میں شوکت نواز میر اور خواجہ مہران کو آزاد کشمیر میں احتجاجی صورتحال سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔ تاہم اس آڈیو کی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں ہو سکی۔
اس معاملے پر وزیر مملکت برائے قانون Barrister Aqeel Malik نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر مبینہ آڈیو دوبارہ شیئر کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس آڈیو کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ تنظیم کے خلاف کارروائی کے لیے ایک اہم بنیاد ثابت ہو سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ مبینہ گفتگو تنظیم کے مقاصد اور سرگرمیوں سے متعلق کئی سوالات کو جنم دیتی ہے، جن کی مکمل جانچ ضروری ہے۔
دوسری جانب وزیر مملکت برائے داخلہ Talal Chaudhry نے اس معاملے کو انتہائی سنگین قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پہلے سے موجود شواہد کے ساتھ یہ مبینہ آڈیو صورتحال کو مزید حساس بنا دیتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس معاملے کی غیر جانبدار اور جامع تحقیقات ضروری ہیں، اور متعلقہ ادارے فوری طور پر اس کی چھان بین کریں گے تاکہ حقائق سامنے لائے جا سکیں۔
حکام کے مطابق آڈیو کی تصدیق اور فرانزک جانچ کے بعد ہی کسی حتمی نتیجے پر پہنچا جا سکے گا۔