گرین بلڈنگ پالیسی: سندھ میں بجلی اور پانی بچانے کے لیے نئے تعمیراتی قوانین کی تیاری

سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) نے ماحول دوست عمارتوں کے لیے نئے قوانین تیار کرنے پر کام شروع کردیا ہے۔ مجوزہ گرین بلڈنگ بائی لاز کا مقصد بجلی اور پانی کی کھپت کم کرنا ہے۔

ڈی جی ایس بی سی اے ڈاکٹر وسیم شمشاد کے مطابق سندھ میں گرمی، پانی کی قلت اور بجلی کی بندش بڑے مسائل ہیں۔ ان سے نمٹنے کے لیے پائیدار تعمیرات ضروری ہیں۔

ایس بی سی اے اور سندھ انرجی ایفیشنسی اینڈ کنزرویشن ایجنسی (سیکا) نے کراچی میں مشاورتی اجلاس منعقد کیا۔ شرکاء نے انٹرنیشنل فائنانس کارپوریشن (آئی ایف سی) کے تیار کردہ مسودے کا جائزہ لیا۔ اس کا مقصد تعمیراتی قواعد میں ماحول دوست اقدامات شامل کرنا ہے۔

اجلاس میں سرکاری محکموں، ریگولیٹرز، آباد، آرکیٹیکٹس اور انجینئرز کے نمائندوں نے شرکت کی۔

پائیدار تعمیرات اور توانائی کی بچت

ڈاکٹر وسیم شمشاد نے کہا کہ پانی اور بجلی کی پیداوار بڑھانا ضروری ہے۔ تاہم، ان وسائل کا محتاط استعمال بھی اتنی ہی اہمیت رکھتا ہے۔ ان کے مطابق مجوزہ قوانین پائیدار ترقی کی جانب اہم قدم ہیں۔

ایس بی سی اے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر علی غفران اور ڈائریکٹر اسماء غیور نے شرکاء کو مجوزہ اقدامات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے تجاویز بھی حاصل کیں۔

مجوزہ قوانین میں سندھ کے گرم موسم کو مدنظر رکھا گیا ہے۔ ان کے تحت دھوپ کی حرارت منعکس کرنے والی چھتیں بنانے کی سفارش کی گئی ہے۔ کم بجلی استعمال کرنے والے پنکھے اور لائٹس بھی اس منصوبے کا حصہ ہیں۔ پانی بچانے والی سینیٹری فٹنگز بھی نصب کرنے کی تجویز ہے۔

آئی ایف سی کے گرین بلڈنگز پروگرام پاکستان کی سربراہ ریشما آفتاب نے مؤثر نفاذ کی اہمیت پر زور دیا۔ ان کے مطابق قوانین پر عمل درآمد سے توانائی بچانے والی عمارتوں کی تعمیر کو فروغ ملے گا۔

پانچ شہروں میں تعمیراتی رقبے کا سروے

مجوزہ سفارشات کراچی، حیدرآباد، نواب شاہ، سکھر اور لاڑکانہ میں کیے گئے سروے پر مبنی ہیں۔ سروے کے مطابق 2014 سے 2024 کے دوران ان شہروں کے تعمیراتی رقبے میں 50 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا۔

رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں تعمیرات توانائی کے مخصوص معیارات کے بغیر ہوئیں۔ مجوزہ قوانین کا مقصد آئندہ تعمیراتی منصوبوں میں توانائی کی بچت کو یقینی بنانا ہے۔

سالانہ بجلی اور پانی کی ممکنہ بچت

آئی ایف سی کے تخمینے کے مطابق نئے قوانین کے تحت 2036 تک تعمیر ہونے والی عمارتوں سے سالانہ تقریباً 250 گیگاواٹ آور بجلی بچائی جا سکتی ہے۔

اس کے علاوہ روزانہ تقریباً 8 کروڑ 50 لاکھ لیٹر پانی کی بچت متوقع ہے۔ اس میں بڑا حصہ کراچی سے حاصل ہونے کا امکان ہے۔ آئی ایف سی کے مطابق ان اقدامات سے آئندہ 10 سال میں 5 لاکھ ٹن سے زیادہ کاربن کے اخراج کو بھی روکا جا سکتا ہے۔

یہ اعداد و شمار تخمینوں پر مبنی ہیں۔ ان کے حصول کا انحصار قوانین کے نفاذ اور تعمیراتی شعبے میں ان پر عمل درآمد پر ہوگا۔

قوانین کی حتمی تیاری اور منظوری

مجوزہ فریم ورک میں چھوٹی رہائشی عمارتوں اور بڑے تعمیراتی منصوبوں کے لیے الگ تقاضے رکھنے کی تجویز ہے۔ اجلاس میں شرکاء نے تعمیراتی لاگت اور مقامی سامان کی دستیابی پر توجہ دینے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے قوانین پر آسانی سے عمل درآمد کی اہمیت بھی اجاگر کی۔

اجلاس کے اختتام پر مسودے کو حتمی شکل دینے کے لیے ٹیکنیکل ورکنگ کمیٹی بنانے پر اتفاق ہوا۔ اگلے مرحلے میں بلڈرز، انجینئرز اور ایس بی سی اے کے عملے کو تربیت دی جائے گی۔ اس کے بعد مجوزہ قوانین منظوری کے لیے پیش کیے جائیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!