کراچی: آل تاجران کانفرنس میں شرکاء نے کراچی کو علیحدہ صوبہ بنانے اور سندھ میں نئے انتظامی یونٹس کے قیام کی تجویز پر اتفاق کا اظہار کیا۔
مقامی بال روم میں ہونے والی کانفرنس میں کراچی کے تاجروں، کاروباری شخصیات اور دیگر معزز مہمانوں نے شرکت کی۔
کانفرنس میں کراچی کی موجودہ صورتحال، شہر کی ترقی، بنیادی سہولیات، کاروباری سرگرمیوں اور تاجروں کو درپیش مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
کراچی کو صوبہ بنانے کی تجویز
کانفرنس کے شرکاء نے کراچی کو علیحدہ صوبہ بنانے کے معاملے پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
فیروز علی کامدی نے کہا کہ کراچی کو صوبہ بنانا وقت کی ضرورت ہے۔
شرکاء کا کہنا تھا کہ کراچی ملک کا معاشی حب ہے۔ شہر کی ترقی اور بہتر انتظامی نظام کے لیے مؤثر اقدامات ضروری ہیں۔
کانفرنس میں سندھ میں نئے انتظامی یونٹس کے قیام کی تجویز پر بھی اتفاق رائے کا اظہار کیا گیا۔
کراچی میں بھتہ خوری اور فائرنگ پر ایم کیو ایم کا اظہار تشویش
کراچی کے مسائل پر گفتگو
مقررین نے کراچی کے انفراسٹرکچر، صفائی، ٹریفک، امن و امان اور بلدیاتی نظام سے متعلق مسائل پر گفتگو کی۔
تاجروں نے کاروباری سرگرمیوں کے فروغ اور شہر میں بنیادی سہولیات کی بہتری پر بھی زور دیا۔
شرکاء کا کہنا تھا کہ کراچی کی ترقی اور خوشحالی کے لیے تاجروں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کو متحد ہوکر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
تاجروں کی شرکت
کانفرنس میں منہاج گلفام، جمیل احمد پراچہ، آصف گلفام، فیضان راوت، شیخ ارشاد، جاوید ارشاد، ماجد، ایوب مرزا، جاوید صدیقی، عمیر خان، سلمان رضوان، عالم منیر، جاوید شمس، وقاص عظیم، فرحان کے ڈبلیو، کاشف صلاٹ، محمد اعظم، شاکر فینسی، برگیڈیئر قرار حسین، کاشف صبرانی، کاشف سیدی، راشد علی، اسلام لال پوری، عرفان رضوان، خالد انصاف، مقصود فراز، شریف میمن، حسین قریشی، حسین رومی، یاسین قریشی، قیس منصور شیخ، شاہد سجیلا، ارشد خان، ایس پی جہانگیر مغل، ارشد کم کم، عارف خان، یونس بچو، جاوید فاریق، عبدالغنی میمن، نعیم چچا، اصغر علی، خالد نور، عمران خان، اسد علی، فیصل احمد، ندیم اجمیری، حسنین جعفری، انور غوری، فیاض ابوبکر، منیر شیخ یوسف پاکستانی، محمد وسیم کامدی، منصور چوری والا اور رانا منیر سمیت دیگر تاجروں اور مہمانوں نے شرکت کی۔
فیروز علی کامدی، یوسف قریشی، محمد منہاج گلفام اور محمد اسلم خان نے مہمانوں کا استقبال کیا۔