ڈیجیٹل دور میں سندھی شناخت کے نئے رنگ

تحریر: سید میثم عباس کاظمی

زمانہ جب بھی نیا رخ اختیار کرتا ہے تو اظہار کے انداز بھی تبدیل ہوتے ہیں۔ کبھی خیال کاغذ کے صفحات پر سفر کرتا تھا، پھر ریڈیو اور ٹیلی ویژن نے اس سفر کو نئی وسعت دی، اور اب موبائل فون کی چھوٹی سی اسکرین نے دنیا کو ایک ایسی کھڑکی میں تبدیل کر دیا ہے، جہاں سے ایک تخلیق کار اپنی بات، اپنی سوچ اور اپنی ثقافت کے رنگ ایک ہی لمحے میں ہزاروں، لاکھوں لوگوں تک پہنچا سکتا ہے۔ یہ ڈیجیٹل دور ہے، جہاں لفظ، تصویر، آواز اور ویڈیو مل کر اظہار کی ایک نئی دنیا تخلیق کر رہے ہیں۔

سندھ، جو صدیوں سے اپنی زبان، ادب، موسیقی، لوک روایات، ثقافتی رنگوں اور زندہ دل سماجی مزاج کے حوالے سے پہچانا جاتا ہے، اس کے لیے بھی ڈیجیٹل دنیا نے ایک نیا میدان کھول دیا ہے۔ اب سندھ کے دیہات کی باتیں، شہروں کے رنگ، مقامی محاورے، مزاح، رہن سہن اور ثقافتی حوالہ جات صرف کتابوں، محفلوں اور روایتی میڈیا تک محدود نہیں رہے، بلکہ موبائل اسکرین کے ذریعے دنیا کے کونے کونے تک پہنچ سکتے ہیں۔

اسی بدلتے ہوئے منظرنامے میں پاکستان سے تعلق رکھنے والے معروف ڈیجیٹل کریئیٹر اور سوشل میڈیا پرسنالٹی سید شاہد حسین شاہ، المعروف سید شاہد کاظمی کا ڈیجیٹل سفر بھی قابلِ ذکر ہے۔ سید شاہد کاظمی اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، خصوصاً ٹک ٹاک اکاؤنٹ @syedshahidkazmi110 کے ذریعے سندھی ثقافت، مزاح اور تفریح سے متعلق منفرد مواد پیش کر رہے ہیں، جسے سوشل میڈیا پر موجود ان کے ناظرین اور مداحوں کی جانب سے پسند کیا جا رہا ہے۔

ان کے ڈیجیٹل مواد کی خاص بات یہ ہے کہ روزمرہ زندگی سے وابستہ چھوٹے، دلچسپ اور مزاحیہ مناظر کو جدید انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ایسے مواد میں تفریح کے ساتھ ساتھ مقامی معاشرے، زبان اور ثقافتی مزاج کے رنگ بھی نمایاں ہوتے ہیں۔

ثقافت صرف اجرک، ٹوپی، موسیقی یا کسی روایتی رسم کا نام نہیں۔ ثقافت تو لوگوں کے بولنے کے انداز، ان کے ہنسنے، سوچنے، روزمرہ کی عادات، محاوروں اور ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات میں زندہ رہتی ہے۔ جب یہی رنگ جدید میڈیا کے ذریعے پیش ہوتے ہیں تو ثقافت ایک نئی صورت اختیار کرتی ہے، لیکن اس کی روح وہی رہتی ہے۔

سید شاہد کاظمی کے مواد میں بھی روزمرہ زندگی کے انہی چھوٹے مگر دلچسپ رنگوں کو ڈیجیٹل انداز میں پیش کرنے کی کوشش نظر آتی ہے۔ مزاح اگر مثبت اور تعمیری انداز میں پیش کیا جائے تو وہ صرف ہنسانے کا ذریعہ نہیں رہتا بلکہ معاشرے کو اپنا ہی عکس دیکھنے کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔ ایک اچھا مزاحیہ منظر کبھی کبھی ایک طویل تقریر سے زیادہ اثر چھوڑ جاتا ہے۔

آج کی نوجوان نسل کا ایک بڑا حصہ کتاب سے پہلے اسکرین سے واقف ہوتا ہے۔ اس لیے اگر سندھی زبان کو آنے والی نسل تک پہنچانا ہے تو اس زبان کو جدید میڈیا کی زبان بھی بنانا ہوگا۔ سندھی زبان میں معیاری، تخلیقی اور دلچسپ ڈیجیٹل مواد کی ضرورت اس لیے بھی زیادہ محسوس ہوتی ہے کہ زبان کی بقا صرف ماضی کے ورثے سے نہیں بلکہ مستقبل میں اس کے استعمال سے بھی وابستہ ہے۔

سوشل میڈیا کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ یہاں کسی بڑے ادارے یا اخبار کے دروازے پر دستک دیے بغیر ایک تخلیق کار اپنی آواز اور اپنی تخلیق براہِ راست لوگوں تک پہنچا سکتا ہے۔ تاہم آزادی کے ساتھ ذمہ داری بھی آتی ہے۔ ڈیجیٹل دنیا میں ہر لفظ، ہر تصویر اور ہر ویڈیو کسی نہ کسی ذہن پر اثر چھوڑتی ہے۔ اس لیے تخلیق کار کے لیے ضروری ہے کہ مقبولیت کے ساتھ معیار، ذمہ داری اور مثبت سوچ کو بھی اہمیت دے۔

سید شاہد کاظمی کا کہنا ہے کہ ان کی کوشش ہے کہ ناظرین کے لیے ایسا مواد تیار کیا جائے جس میں تفریح کے ساتھ سندھی زبان، ثقافت اور مقامی معاشرے کے رنگ بھی نمایاں ہوں۔ ان کے خیال میں جدید ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو صرف تفریح کے لیے نہیں بلکہ اپنی زبان اور ثقافتی شناخت کو نئی نسل تک پہنچانے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ڈیجیٹل دنیا میں مقبولیت حاصل کرنے کے ساتھ اسے برقرار رکھنا ایک مسلسل تخلیقی عمل ہے۔ ہر روز نیا مواد، نیا رجحان اور نیا تخلیق کار سامنے آتا ہے۔ ایسے ماحول میں مستقل مزاجی، تخلیقی سوچ اور اپنے موضوع کے ساتھ سچائی ہی کسی بھی ڈیجیٹل سفر کو معنویت عطا کر سکتی ہے۔

سندھی زبان کے لیے بھی یہ وقت انتہائی اہم ہے۔ ہمارے پاس صوفیوں کی شاعری سے لے کر جدید ادب تک ایک شاندار فکری اور ادبی ورثہ موجود ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ اس ورثے کو نئی نسل کی زبان اور نئے میڈیا تک کیسے پہنچایا جائے؟ شاید اس سوال کا ایک جواب یہ بھی ہے کہ سندھی تخلیق کار جدید ٹیکنالوجی کو اپنی زبان کا ساتھی بنائیں۔

آج ایک مختصر ویڈیو بھی کسی کتاب کی طرح لوگوں تک پیغام لے جا سکتی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ کتاب پڑھنی پڑتی ہے جبکہ ویڈیو خود کو دیکھنے کی دعوت دیتی ہے۔ اگر اس ویڈیو میں اپنی دھرتی کی خوشبو، اپنی زبان کی مٹھاس اور اپنے معاشرے کا عکس موجود ہو تو وہ تفریح سے آگے بڑھ کر ثقافتی اظہار کا حصہ بن جاتی ہے۔

المعروف شاہد کاظمی کا ڈیجیٹل سفر بھی اسی وسیع تبدیلی کی ایک چھوٹی مگر دلچسپ کڑی ہے، جس میں سندھی زبان اور ثقافت روایتی ذرائع کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل دنیا میں بھی اپنا مقام تلاش کر رہی ہے۔ ان کے مواد کو محض سوشل میڈیا سرگرمی کے طور پر دیکھنے کے بجائے اس بڑی تبدیلی کے پس منظر میں بھی دیکھا جا سکتا ہے، جس میں سندھی زبان اپنے روایتی حسن کے ساتھ جدید ٹیکنالوجی کی نئی زبان میں بھی اپنا اظہار کر رہی ہے۔

آخرکار وقت بدلتا ہے، ذرائع بدلتے ہیں اور اظہار کے انداز بھی تبدیل ہوتے ہیں، لیکن اپنی دھرتی سے محبت اور اپنی زبان سے وابستگی کے جذبات اپنی جگہ قائم رہتے ہیں۔ آج اگر یہ جذبات موبائل اسکرین پر ویڈیو کی صورت میں ظاہر ہو رہے ہیں تو یہ بھی وقت کا تقاضا ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ جدیدیت کی رفتار میں اپنی شناخت کی آواز گم نہ ہو۔

شاید ڈیجیٹل دور کی اصل خوبصورتی بھی یہی ہے کہ دنیا سے جڑتے ہوئے انسان اپنی دھرتی سے اپنا رشتہ مزید مضبوط رکھے۔ سندھی زبان، سندھی ثقافت اور سندھی معاشرے کے رنگ اگر جدید ڈیجیٹل دنیا میں نئے انداز سے نظر آتے ہیں تو یہ صرف ایک تخلیق کار کی کوشش نہیں بلکہ اپنی ثقافتی شناخت کو نئے زمانے کی زبان میں زندہ رکھنے کا ایک سفر بھی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!