...

پاسبان ریمی ٹینس: سالانہ 16 ارب روپے کے انعامات کا اعلان

بینک دولتِ پاکستان کے گورنر جمیل احمد نے پاسبان ریمی ٹینس ریوارڈ اسکیم کا افتتاح کردیا۔ اسکیم پاکستان بینکس ایسوسی ایشن (پی بی اے) نے شروع کی ہے۔

اس اسکیم کے تحت بینکاری ذرائع سے ترسیلاتِ زر وصول کرنے والوں کو نقد انعامات دیے جائیں گے۔ سالانہ انعامات کی مجموعی مالیت 16 ارب روپے ہوگی۔

اسکیم کے تمام اخراجات بینکاری صنعت برداشت کرے گی۔ قومی خزانے پر اس کا کوئی بوجھ نہیں پڑے گا۔

باضابطہ ذرائع کے استعمال کی حوصلہ افزائی

اسٹیٹ بینک کی سرپرستی میں اسکیم تیار کی گئی ہے۔ اس کا مقصد ترسیلاتِ زر کے باضابطہ ذرائع کے استعمال کو بڑھانا ہے۔

جمیل احمد نے کہا کہ اسٹیٹ بینک اور حکومت نے پی بی اے کے ساتھ مل کر اسکیم تیار کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ماڈل مارکیٹ کی بنیاد پر کام کرے گا۔

گورنر نے بیرونِ ملک پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر کو اہم قرار دیا۔ ان کے مطابق لاکھوں خاندان ان رقوم سے اپنے اخراجات پورے کرتے ہیں۔

ان ترسیلات سے تعلیم، صحت اور سرمایہ کاری کے لیے بھی وسائل ملتے ہیں۔

زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ

جمیل احمد نے پاکستان کے بیرونی کھاتے میں استحکام کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق بیرونی کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ اب قابلِ انتظام سطح پر آگیا ہے۔

اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر فروری 2023 میں 3 ارب ڈالر رہ گئے تھے۔ اب یہ ذخائر 21.4 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں۔

گورنر کے مطابق اس بہتری میں مارکیٹ سے زرمبادلہ کی خریداری نے اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے بیرونِ ملک پاکستانیوں کی خدمات کو بھی سراہا۔

مالی سال 2026 میں ترسیلاتِ زر ریکارڈ 41.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ مالی سال 2019 میں یہ رقم 21.7 ارب ڈالر تھی۔

اسکیم میں کون شریک ہوسکے گا؟

پی بی اے کے سی ای او اور سیکریٹری جنرل منیر کمال نے اسکیم کی تفصیلات بتائیں۔

ان کے مطابق جو شخص مسلسل تین ماہ اپنے بینک اکاؤنٹ میں ہر ماہ کم از کم 100 ڈالر وصول کرے گا، وہ اہل ہوگا۔

100 ڈالر کی اہل ترسیل پر ایک ڈیجیٹل انٹری نمبر جاری ہوگا۔ زیادہ رقم وصول کرنے پر اضافی انٹری نمبر بھی ملیں گے۔

مثال کے طور پر تین ماہ میں 100، 200 اور 300 ڈالر وصول کرنے والے کو بالترتیب ایک، دو اور تین انٹریاں ملیں گی۔

ہر سہ ماہی 4 ارب روپے کے انعامات

ہر سہ ماہی میں 2,521 نقد انعامات دیے جائیں گے۔ ان انعامات کی مجموعی مالیت 4 ارب روپے ہوگی۔

  • پہلا انعام: 10 کروڑ روپے، ایک انعام
  • دوسرا انعام: 2.5 کروڑ روپے، 20 انعامات
  • تیسرا انعام: ایک کروڑ روپے، 100 انعامات
  • چوتھا انعام: 10 لاکھ روپے، 2,400 انعامات

یوں سالانہ 16 ارب روپے کے انعامات 10 ہزار سے زائد افراد میں تقسیم ہوں گے۔

انعامات مختلف خطوں سے موصول ہونے والی ترسیلات کے تناسب سے مختص ہوں گے۔ جی سی سی کے لیے 50 فیصد حصہ رکھا گیا ہے۔

برطانیہ کے لیے 15 فیصد اور یورپ کے لیے 15 فیصد حصہ ہوگا۔ شمالی امریکا کے لیے 10 فیصد جبکہ دیگر ممالک کے لیے 10 فیصد حصہ مختص ہوگا۔

پہلی قرعہ اندازی جنوری 2027 میں

اسکیم کی قرعہ اندازی سہ ماہی بنیاد پر ہوگی۔ پہلی قرعہ اندازی 15 جنوری 2027 کو ہوگی۔

اس میں یکم اکتوبر سے 31 دسمبر 2026 تک موصول ہونے والی اہل ترسیلات شامل ہوں گی۔

قرعہ اندازی محفوظ اور مکمل طور پر ڈیجیٹل طریقے سے ہوگی۔ اس عمل کو قابلِ محاسبہ بھی بنایا جائے گا۔

اسکیم میں شرکت مکمل طور پر مفت ہے۔ بینک صارفین سے کسی قسم کی فیس یا ادائیگی طلب نہیں کریں گے۔

بینکاری صنعت کا کردار

پی بی اے چیئرمین ظفر مسعود نے بینکاری صنعت کے کردار کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ بینکوں نے ترسیلات بھیجنے والوں کے لیے مراعات کی ذمہ داری سنبھالی ہے۔

انہوں نے برآمد کنندگان کے لیے ری فنانس شرحوں میں کمی اور نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی کا بھی ذکر کیا۔

ظفر مسعود کے مطابق بیرونِ ملک پاکستانی اس معاشی عمل کا اہم حصہ ہیں۔ ان کے بقول پاسبان اسکیم ان کی خدمات کا اعتراف ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!
Seraphinite AcceleratorOptimized by Seraphinite Accelerator
Turns on site high speed to be attractive for people and search engines.