کراچی کے علاقے اسٹیل ٹاؤن میں ضلعی انتظامیہ نے اسٹیل مل کی 200 ایکڑ زمین سے مبینہ قبضہ ختم کرانے کے لیے کارروائی کی۔
انتظامیہ اور اسٹیل مل کے اہلکار بھاری نفری کے ہمراہ موقع پر پہنچے۔ اس دوران وہاں موجود افراد نے احتجاج کیا۔
پولیس کے مطابق مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ اور فائرنگ کی۔ اس کے نتیجے میں پولیس موبائل سمیت متعدد سرکاری گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔
پولیس کے مطابق بعض اہلکاروں کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع ہے۔
انتظامیہ کا مؤقف
اے سی بن قاسم سجاد انصاری نے بتایا کہ کارروائی ڈی سی ملیر کے احکامات پر کی گئی۔ ان کے مطابق مقصد اسٹیل مل کی زمین سے مبینہ قبضہ ختم کرانا تھا۔
انہوں نے کہا کہ کارروائی کے دوران انتظامیہ کو مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ واقعے کا مقدمہ بھی درج کرایا جائے گا۔
اے سی بن قاسم کے مطابق قیمتی زمین پر بااثر افراد مبینہ طور پر گاؤں کے نام پر قبضے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق زمین کی مالیت اربوں روپے بتائی جاتی ہے۔
مظاہرین کا مؤقف
دوسری جانب مظاہرین نے انتظامیہ کی کارروائی کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ مذکورہ زمین گاؤں کی ملکیت ہے۔ انہوں نے زمین سے دستبردار ہونے سے انکار کیا ہے۔
فریقین کے دعووں کی قانونی حیثیت کا تعین متعلقہ ریکارڈ اور قانونی کارروائی سے ہوگا۔