کوہاٹ پولیس لائنز کے قریب مسجد میں نماز جمعہ کے دوران خودکش دھماکے میں 16 افراد شہید ہوگئے۔ دھماکے میں 57 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔
پولیس کے مطابق شہداء میں 5 پولیس اہلکار اور 11 شہری شامل ہیں۔ دھماکے سے مسجد کی بیرونی دیوار گر گئی۔ قریبی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا۔
بارود سے بھری گاڑی گیٹ سے ٹکرائی
آئی جی خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید کے مطابق بارود سے بھری گاڑی پرانی پولیس لائنز کے گیٹ سے ٹکرائی۔
گاڑی ٹکرانے کے بعد دھماکا ہوا۔ اس کے بعد فائرنگ کا تبادلہ بھی شروع ہوگیا۔
پولیس کے مطابق حملے کے دوران اسپیشل برانچ کی عمارت کے قریب ایک اور خودکش دھماکا ہوا۔
پولیس لائنز میں 7 مسلح حملہ آور داخل
سینٹرل پولیس آفس کے مطابق 7 مسلح دہشت گرد پولیس لائنز میں داخل ہوئے۔ پولیس اور سی ٹی ڈی نے حملہ آوروں کے خلاف کارروائی کی۔
پولیس کے مطابق 6 حملہ آور ہلاک ہوچکے ہیں۔ ہلاک افراد میں خودکش بمبار اور اسنائپر بھی شامل ہیں۔
علاقے کو سکیورٹی فورسز اور پولیس نے گھیرے میں لے لیا ہے۔ کلیئرنس اور سرچ آپریشن جاری ہے۔
ڈی ایچ کیو اسپتال میں ایمرجنسی
دھماکے کے زخمیوں کو ڈی ایچ کیو اسپتال منتقل کیا گیا۔ اسپتال انتظامیہ نے ایمرجنسی نافذ کردی۔
ایم ایس ڈی ایچ کیو اسپتال طاہر علی شاہ کے مطابق 15 لاشیں اور 50 سے زائد زخمی اسپتال لائے گئے۔
پولیس نے کوہاٹ ہنگو روڈ کو ٹریفک کے لیے بند کردیا۔ مزید نفری بھی پولیس لائنز کے اطراف پہنچا دی گئی۔
ریسکیو اہلکاروں نے جائے وقوعہ پر امدادی کارروائیاں شروع کردیں۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے رپورٹ طلب کرلی
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے دھماکے کا نوٹس لیا۔ انہوں نے پولیس حکام سے تفصیلی رپورٹ طلب کی۔
وزیراعلیٰ نے واقعے کی مذمت کی اور زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی۔
انہوں نے اسپتالوں میں ضروری طبی سہولیات یقینی بنانے کا بھی حکم دیا۔ شدید زخمیوں کو ضرورت پڑنے پر دیگر اسپتالوں منتقل کرنے کی ہدایت بھی کی گئی۔