کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن نے پانی چوری کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے اسکیم 33 میں 5 غیر قانونی کنکشن منقطع کردیئے۔
کارروائی رند گوٹھ اور مدینہ کالونی میں کی گئی۔
واٹر کارپوریشن کی سیکیورٹی ٹیموں نے غیر قانونی کنکشنز کے ساتھ پمپس اور پائپس بھی تحویل میں لے لیے۔
ایک واٹر ٹینکر بھی قبضے میں لیا گیا۔
رند گوٹھ میں 4 غیر قانونی کنکشن منقطع
ترجمان کے مطابق رند گوٹھ میں دو مقامات پر کارروائی کی گئی۔
عمران میمن ولد اقبال کے زیر استعمال مقام پر 84 انچ پانی کی لائن پنکچر کی گئی تھی۔
پولیس کے مطابق وہاں قائم 3 غیر قانونی کنکشن منقطع کردیئے گئے۔
ان میں ایک 3 انچ اور دو 4 انچ کے کنکشن شامل تھے۔
کارروائی کے دوران 2 بالٹی پمپس بھی تحویل میں لیے گئے۔
150 فٹ 4 انچ پلاسٹک پائپ بھی قبضے میں لیا گیا۔
15 فٹ 6 انچ لوہے کا پائپ اور ایک لوہے کا گیٹ بھی تحویل میں لیا گیا۔
اسی علاقے میں الحاق ولد جمعہ خان کے مقام پر بھی کارروائی کی گئی۔
84 انچ پانی کی لائن سے قائم غیر قانونی کنکشن منقطع کردیا گیا۔
20 فٹ 3 انچ پلاسٹک پائپ بھی تحویل میں لیا گیا۔
مدینہ کالونی میں غیر قانونی کنکشن پکڑا گیا
مدینہ کالونی میں عبدالرحمن ولد سلطان کے مقام پر کارروائی کی گئی۔
ترجمان کے مطابق 6 انچ ڈسٹری بیوشن لائن کو پنکچر کرکے 2 انچ کا کنکشن قائم کیا گیا تھا۔
غیر قانونی کنکشن منقطع کردیا گیا۔
کارروائی کے دوران 4 جنریٹر پمپس اور ایک ڈونکی پمپ تحویل میں لیا گیا۔
2 فٹ 2 انچ پائپ بھی قبضے میں لے لیا گیا۔
واٹر ٹینکر اور ڈرائیور تحویل میں
واٹر کارپوریشن نے پانی کی غیر قانونی بھرائی میں استعمال ہونے والا ٹینکر بھی تحویل میں لیا۔
ٹینکر کا رجسٹریشن نمبر JY-6383 بتایا گیا ہے۔
ڈرائیور فراز ولد نذر خان کو حراست میں لے کر پولیس کے حوالے کردیا گیا۔
8 گھنٹے میں مقدمہ درج کرنے کی ہدایت
واٹر کارپوریشن حکام کے مطابق پانی کی لائن پنکچر کرکے پانی حاصل کرنا پانی چوری کے زمرے میں آتا ہے۔
حکام کے مطابق اس عمل سے شہریوں کو پانی کی فراہمی متاثر ہوتی ہے۔
نئے احکامات کے تحت کارروائی میں ملوث افراد کے خلاف 8 گھنٹوں کے اندر ایف آئی آر درج کرائی گئی ہے۔
حکام نے کہا کہ غیر قانونی ہائیڈرنٹس کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کی جائیں گی۔
غیر قانونی کنکشنز اور ٹینکر فلنگ پوائنٹس کے خلاف بھی کارروائی جاری رہے گی۔