عمران خان اسپتال منتقلی سپریم کورٹ نے سماعت 3 ہفتوں کے لیے ملتوی کردی

سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اسپتال منتقلی سے متعلق کیس کی سماعت تین ہفتوں کے لیے ملتوی کردی۔

جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ بینچ میں جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس اشتیاق ابراہیم بھی شامل تھے۔

وفاقی آئینی عدالت کے حکم نامے پر بحث

سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو وفاقی آئینی عدالت کے حالیہ حکم سے آگاہ کیا۔

وفاقی آئینی عدالت نے عمران خان کی اسپتال منتقلی سے متعلق مقدمات کا ریکارڈ طلب کیا ہے۔ یہ ریکارڈ آئین کے آرٹیکل 175-E کے تحت طلب کیا گیا ہے۔

اٹارنی جنرل منصور اعوان نے عدالت کو آئینی عدالت کے حکم نامے سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ آئین کے تحت آئینی عدالت مقدمات کا ریکارڈ طلب کرسکتی ہے۔

جسٹس شاہد وحید کے دائرہ اختیار سے متعلق سوالات

جسٹس شاہد وحید نے وفاقی آئینی عدالت کے دائرہ اختیار سے متعلق سوالات اٹھائے۔

انہوں نے استفسار کیا کہ آئینی عدالت سپریم کورٹ میں زیر سماعت مقدمات کو سماعت کے لیے کیسے مقرر کرسکتی ہے۔

جسٹس شاہد وحید نے اٹارنی جنرل سے اس معاملے پر عدالت کی معاونت طلب کی۔

انہوں نے کہا کہ عدالتیں ایک دوسرے کے احترام کی قائل ہیں۔ ان کے مطابق سوالات کا مقصد آئینی صورتحال کو سمجھنا ہے۔

عدالتی احکامات پر عملدرآمد کا معاملہ

جسٹس شاہد وحید نے 18 اگست کے عدالتی حکم کا بھی حوالہ دیا۔

انہوں نے کہا کہ اس حکم کے تحت سرکاری افسران کو طلب کیا گیا تھا۔ تاہم سماعت کے دوران کوئی افسر پیش نہیں ہوا۔

جسٹس شاہد وحید نے سوال کیا کہ کیا افسران کی عدم حاضری عدالتی حکم کی خلاف ورزی نہیں؟

اٹارنی جنرل نے تسلیم کیا کہ افسران کو عدالت میں پیش ہونا چاہیے تھا۔

جسٹس شاہد وحید نے جیل سپرنٹنڈنٹ کے وارنٹ جاری کرنے سے متعلق بھی سوال کیا۔ اٹارنی جنرل نے مزید ایک موقع دینے کی درخواست کی۔

اسپتال منتقلی کا حکم برقرار

سماعت کے دوران عدالت نے واضح کیا کہ اسپتال منتقل کرنے سے متعلق اس کا حکم موجود ہے۔

عدالت نے ملاقاتوں اور عمران خان کے بچوں سے ٹیلی فون پر بات چیت سے متعلق بھی سوالات کیے۔

وفاقی آئینی عدالت کے حکم کے بعد سپریم کورٹ نے معاملے پر مزید قانونی معاونت لینے کا فیصلہ کیا۔

سلمان اکرم راجہ کا مؤقف

عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے عدالت کو بتایا کہ ان کے مطابق اپیل میں آئینی تشریح درکار نہیں تھی۔

انہوں نے کہا کہ توہین عدالت کی درخواستوں میں بھی آئینی تشریح کی ضرورت نہیں تھی۔

وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ عدالتی حکم کے باوجود عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل نہیں کیا گیا۔

سماعت تین ہفتوں کے لیے ملتوی

اٹارنی جنرل منصور اعوان نے عدالت سے سماعت تین ہفتوں کے لیے ملتوی کرنے کی درخواست کی۔

سپریم کورٹ نے درخواست منظور کرلی۔ یوں عمران خان کی اسپتال منتقلی سے متعلق کیس کی سماعت تین ہفتوں کے لیے ملتوی کردی گئی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!