...

لانڈھی پلاٹس سندھ ہائیکورٹ نے 2300 پلاٹس سے متعلق درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا

لانڈھی پلاٹس کے 2300 پلاٹس پر قبضے کے خلاف درخواست پر سندھ ہائیکورٹ نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔ عدالت نے سماعت کے دوران تمام فریقین کے تفصیلی دلائل سنے۔

درخواست گزاروں نے عدالت سے پلاٹس کا قبضہ ختم کرانے یا الاٹیز کو رقم واپس دلانے کی استدعا کی ہے۔

متاثرین کا 30 سال سے قبضہ نہ ملنے کا مؤقف

درخواست گزاروں کے وکیل عثمان فاروق ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ متاثرین نے پلاٹس کی رقم ادا کردی تھی۔

ان کے مطابق الاٹیز گزشتہ 30 برس سے پلاٹس کے قبضے سے محروم ہیں۔ کے ایم سی نے لانڈھی میں یہ پلاٹس کاٹیج انڈسٹریز کے لیے الاٹ کیے تھے۔

وکیل نے بتایا کہ متعلقہ کمیٹی نے بھی پلاٹس سے قبضہ ختم کرانے یا الاٹیز کو رقم واپس کرنے کی سفارش کی تھی۔

درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا کہ دونوں سرکاری ادارے معاملے میں غلط بیانی کررہے ہیں۔

کے ایم سی اور بورڈ آف ریونیو کا مؤقف

سماعت کے دوران کے ایم سی کے وکیل نے بتایا کہ تجاوزات کے خلاف کئی مرتبہ کارروائی کی جاچکی ہے۔

وکیل کے مطابق قابضین کا مؤقف ہے کہ ان کے پاس بورڈ آف ریونیو کی جانب سے جاری کردہ لیز موجود ہے۔

سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ بورڈ آف ریونیو نے 1963 میں کے ایم سی کو یہ زمین 30 سالہ لیز پر دی تھی۔

سرکاری وکیل کے مطابق لیز کی مدت 1993 میں ختم ہوگئی تھی۔ اس کے بعد ایڈمنسٹریٹر نے زمین رہائشی مقاصد کے لیے الاٹ کردی تھی۔

زمین کی ملکیت پر بھی تنازع

کے ایم سی کے وکیل نے بتایا کہ زمین کی ملکیت پر کے ایم سی اور بورڈ آف ریونیو کے درمیان تنازع موجود ہے۔

ان کے مطابق ملکیت سے متعلق سول مقدمات بھی مختلف عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔

درخواست گزاروں کے وکیل نے کہا کہ متاثرین 1993 سے اپنے پلاٹس کے قبضے کے منتظر ہیں۔

عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا

سندھ ہائیکورٹ نے تمام فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

عدالت کی جانب سے فیصلے کی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!
Seraphinite AcceleratorOptimized by Seraphinite Accelerator
Turns on site high speed to be attractive for people and search engines.