پاکستان کے نوجوان فاسٹ بولر اور آل راؤنڈر رضا اللہ نے اپنے بین الاقوامی کیریئر کا آغاز شاندار انداز میں کیا ہے۔ برمنگھم ٹیسٹ میں ڈیبیو کرتے ہوئے انہوں نے تیز رفتار بولنگ کے ساتھ جارحانہ بیٹنگ کا بھی مظاہرہ کیا۔
رضا اللہ نے 91 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے گیندیں کرائیں اور چار بیٹرز کو آؤٹ کیا۔ اس کے بعد انہوں نے بیٹنگ میں بھی اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا۔
رضا اللہ نے صرف 43 گیندوں پر نصف سنچری مکمل کی، جو ٹیسٹ ڈیبیو پر کسی پاکستانی کی تیز ترین ففٹی قرار دی گئی ہے۔ انہوں نے مجموعی طور پر 63 گیندوں پر 81 رنز بنائے، جس میں 9 چھکے اور 4 چوکے شامل تھے۔
انہوں نے ٹیسٹ ڈیبیو کی اننگز میں 9 چھکے لگا کر نیوزی لینڈ کے ٹم ساؤدی کا ریکارڈ برابر کیا۔ 81 رنز کی اننگز کھیل کر انہوں نے کوربن بوش کے ٹیسٹ ڈیبیو پر ایک اننگز میں 81 رنز بنانے کے ریکارڈ کی بھی برابری کی۔
رضا اللہ کی جارحانہ بیٹنگ اور مؤثر بولنگ نے انہیں پہلے ہی ٹیسٹ میں نمایاں کردیا۔ ان کی بے خوف کرکٹ نے شائقین کی توجہ حاصل کی اور پاکستان کو ایک نئے باصلاحیت آل راؤنڈر کی امید بھی دی۔
5 اپریل 2005 کو مردان میں پیدا ہونے والے رضا اللہ نے چند برس کی ڈومیسٹک کرکٹ کے بعد قومی ٹیسٹ ٹیم میں جگہ بنائی۔ وہ دائیں ہاتھ سے بیٹنگ کرتے ہیں اور دائیں ہاتھ سے فاسٹ بولنگ کراتے ہیں۔
سونے کی قیمت: دو دن بعد فی تولہ 400 روپے کا اضافہ
رضا اللہ صرف روایتی ٹیل اینڈر کے طور پر نہیں کھیلتے۔ وہ ضرورت پڑنے پر نچلے آرڈر میں جارحانہ بیٹنگ کے ذریعے میچ کا رخ تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ڈومیسٹک کرکٹ میں ان کی رفتار، سوئنگ اور سیم موومنٹ کے ساتھ طاقتور اسٹروکس نے انہیں قومی سلیکٹرز کی توجہ دلائی۔
2026 میں رضا اللہ نے پاکستان سپر لیگ میں راولپنڈیز کی نمائندگی کی۔ انہوں نے 18 اپریل 2026 کو لاہور قلندرز کے خلاف اپنا پی ایس ایل ڈیبیو کیا۔ ٹورنامنٹ میں انہیں دو میچ کھیلنے کا موقع ملا، جن میں انہوں نے تین وکٹیں حاصل کیں۔