سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA) نے لیاری میں خطرناک قرار دی گئی عمارتوں کے خلاف انہدامی کارروائی شروع کردی ہے۔ حکام کے مطابق یہ اقدام شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے کیا جا رہا ہے۔
SBCA کی ٹیکنیکل کمیٹی ڈینجرز بلڈنگز نے لیاری ٹاؤن میں آٹھ خطرناک عمارتوں اور اسٹرکچرز کی نشاندہی کی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ عمارتیں انتہائی خستہ حال ہیں اور کسی بھی وقت گر سکتی ہیں۔
دو عمارتوں کا انہدام شروع
حکام کے مطابق دو مقامات پر انہدامی کارروائی کا آغاز کردیا گیا ہے۔ دریاباد کی گلی نمبر 6 میں پلاٹ نمبر 3940 پر قائم جی+4 عمارت کو منہدم کیا جا رہا ہے۔
نیا آباد کی گلی نمبر 14 میں پلاٹ نمبر 2666 پر قائم جی+5 عمارت کے خلاف بھی کارروائی شروع کردی گئی ہے۔ دونوں مقامات پر کام صبح 9 بج کر 30 منٹ سے شام 5 بج کر 10 منٹ تک جاری رہے گا۔
دیگر خطرناک عمارتوں کی نشاندہی
SBCA کے مطابق بہار کالونی، چاکیواڑہ، دریاباد، کھڈا اور نیا آباد میں مزید چھ مقامات کو خطرناک قرار دیا گیا ہے۔
حکام نے بتایا کہ ان میں سے بیشتر عمارتیں خالی ہیں۔ ان مقامات پر کوئی خاندان رہائش پذیر نہیں ہے۔
لیاری میں پلاٹ نمبر 415 اور 415-A پر قائم جی+3 اسٹرکچر بھی خطرناک قرار دیا گیا ہے۔ چاکیواڑہ میں پلاٹ نمبر 2060 پر قائم جی+4 عمارت بھی غیر آباد ہے۔
دریاباد میں پلاٹ نمبر 3149 اور 3162 بھی خطرناک قرار دیے گئے ہیں۔ بلال مسجد کے سامنے واقع ایک جی+1 اسٹرکچر کو بھی انہدام کے لیے نشان زد کیا گیا ہے۔
اسی طرح کھڈا میں پلاٹ نمبر 1339 پر قائم جی+6 عمارت اور نیا آباد میں پلاٹ نمبر 2555 کے ساتھ واقع جی+4 عمارت بھی فہرست میں شامل ہیں۔
شہریوں کے تحفظ پر زور
SBCA کے ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ خطرناک عمارتوں کے خلاف کارروائی کا مقصد ممکنہ حادثات سے پہلے حفاظتی اقدامات کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کے تعاون سے انہدامی کارروائی جاری رہے گی۔ عوام کی جان و مال کا تحفظ اداروں کی اولین ترجیح ہے۔
