لاہور سمیت ملک بھر میں عید میلاد النبی ﷺ مذہبی جوش و جذبے اور عقیدت و احترام سے منائی جا رہی ہے۔ گلیاں، بازار اور شاہراہیں سبز جھنڈیوں اور برقی قمقموں سے سج گئی ہیں۔
یوم ولادت رسول ﷺ کے موقع پر دن کا آغاز توپوں کی سلامی سے ہوا۔ وفاقی دارالحکومت میں 31 توپوں کی سلامی دی گئی۔ صوبائی دارالحکومتوں میں 21، 21 توپوں کی سلامی ہوئی۔
فوجی جوانوں نے توپوں کی سلامی کے موقع پر نعرہ تکبیر بھی بلند کیا۔ نماز فجر کے بعد مساجد میں ملک کی سلامتی، ترقی اور امت مسلمہ کے اتحاد کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔
جشن میلاد النبی ﷺ کے سلسلے میں سرکاری اور نجی عمارتوں پر بھی چراغاں کیا گیا ہے۔ مختلف مقامات پر محرابیں اور آرائشی دروازے بھی نصب کیے گئے ہیں۔
ملک کے مختلف شہروں میں آج خصوصی محافل، تقریبات اور ریلیوں کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ شہری بڑی تعداد میں ان پروگراموں میں شرکت کر رہے ہیں۔
صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے قوم کو عید میلاد النبی ﷺ کی مبارکباد دی۔ دونوں رہنماؤں نے ملک میں امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے دعا کی۔
صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ امت محمدی ﷺ پر معاشرے میں عدل و انصاف اور برداشت کو فروغ دینا لازم ہے۔ انہوں نے بین المسالک اور بین المذاہب ہم آہنگی پر بھی زور دیا۔
صدر نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ سیرت طیبہ ﷺ سے رہنمائی لیں۔ انہوں نے علم، بلند کردار، محنت اور خدمت انسانیت کو زندگی کا مقصد بنانے کی تلقین کی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ اسوہ حسنہ ﷺ مسلمانوں کی دینی اور دنیاوی اصلاح کے لیے مشعل راہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کی حیات مبارکہ اسلام کی تعلیمات کا بہترین نمونہ ہے۔
وزیراعظم نے قوم پر زور دیا کہ سیرت طیبہ ﷺ کو اپنے کردار اور رویوں کا حصہ بنائیں۔ انہوں نے پاکستان کو مضبوط، خوشحال، پرامن اور فلاحی ریاست بنانے میں کردار ادا کرنے کا عہد کرنے پر بھی زور دیا۔