اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ہاؤسنگ اینڈ ورکس کا اجلاس ہوا۔ اجلاس کی صدارت چیئرمین سینیٹر ناصر بٹ نے کی۔
اجلاس میں پی ڈبلیو ڈی کے سابق ملازمین کو مختلف اداروں میں ایڈجسٹ کرنے اور پنشن نہ ملنے کا معاملہ زیر بحث آیا۔
پی ڈبلیو ڈی ملازمین کی پنشن کا معاملہ
کمیٹی کے ارکان نے ملازمین کے واجبات اور پنشن کی عدم ادائیگی پر تشویش ظاہر کی۔
ایک رکن نے بتایا کہ 100 سے زائد خواتین کے شوہر دورانِ ملازمت انتقال کر گئے۔ ان خواتین کو تاحال واجبات نہیں ملے۔
سینیٹر خالدہ عطیب نے کہا کہ پی ڈبلیو ڈی ملازمین کی پنشن کا معاملہ انتہائی حساس ہے۔ ان کے مطابق سی ڈی اے میں ایڈجسٹ ہونے والے بعض ملازمین کو تنخواہیں اور پنشن نہیں مل رہی۔
سیکریٹری ہاؤسنگ نے کمیٹی کو بتایا کہ ان کی اطلاعات کے مطابق ملازمین کو تنخواہیں مل رہی ہیں۔
سی ڈی اے اور داخلہ حکام نے بھی بتایا کہ 1468 ملازمین کو تنخواہیں دی جا رہی ہیں۔
پنشن کے حق پر وزارتوں میں اختلاف
فنانس ڈویژن کے حکام نے کہا کہ متعلقہ ملازمین پنشن کے اہل نہیں ہیں۔
حکام کے مطابق ورک چارج ملازمین پنشن کے حقدار نہیں ہوتے۔ ان کا کہنا تھا کہ پنشن کی ادائیگی کے لیے ملازم کا سرکاری ملازم ہونا ضروری ہے۔
کمیٹی کو بتایا گیا کہ 2007 میں فنانس ڈویژن نے ملازمین کو پنشن کا اہل قرار دیا تھا۔ تاہم اب فنانس ڈویژن کا کہنا ہے کہ اس وقت جاری کیا گیا خط درست نہیں تھا۔
چیئرمین کمیٹی نے سوال کیا کہ اگر پنشن کا معاملہ حل طلب ہے تو وزیراعظم کو سمری کیوں نہیں بھیجی گئی۔
داخلہ حکام نے بتایا کہ وزیر داخلہ بیرونِ ملک ہیں۔ ان کی واپسی کے بعد سمری وزیراعظم کو بھیج دی جائے گی۔
چیئرمین کمیٹی نے ہدایت کی کہ سمری تین روز میں وزیراعظم کو بھیجی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا نہ ہوا تو وزیر داخلہ کو کمیٹی میں طلب کیا جائے گا۔
مبینہ جعلی خط کا معاملہ
اجلاس میں فنانس ڈویژن کی جانب سے مبینہ طور پر جاری خط کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔
سیکریٹری ہاؤسنگ نے کہا کہ فنانس ڈویژن اب کہہ رہا ہے کہ ایسا کوئی خط جاری نہیں ہوا۔
فنانس حکام نے کہا کہ اگر خط جاری نہیں ہوا تو اسے جعلی سمجھا جائے گا۔
چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ خط کہاں سے آیا، اس معاملے کو ایف آئی اے کو بھیجا جائے گا۔
’نظام کی کمزوریاں ادارے بند کر دیتی ہیں‘
وزیر ہاؤسنگ ریاض حسین پیرزادہ نے کہا کہ نظام کی کمزوریاں اداروں کی بندش کا سبب بنتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ افسران کو جواب نہیں دینا پڑتا۔ تاہم آخرکار جواب حکومت کو دینا پڑتا ہے۔
ریاض پیرزادہ نے کہا کہ حکومت کوئی خیراتی ادارہ نہیں۔ ان کے اس بیان پر سینیٹر خالدہ عطیب نے سخت اعتراض کیا۔
انہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے اپنی جوانی ادارے کو دی، ان کے واجبات ادا کرنا ان کا حق ہے۔
وزیر ہاؤسنگ نے کہا کہ اگر ملازمین اتنا اچھا کام کر رہے تھے تو ادارہ بند کیوں ہوا۔
’سسٹم فیل ہوچکا ہے‘
سینیٹر ہدایت اللہ نے وزیر داخلہ محسن نقوی کے سابقہ بیان کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر داخلہ نے کہا تھا کہ سسٹم فیل ہوچکا ہے۔
وزیر ہاؤسنگ ریاض پیرزادہ نے اس بات سے اتفاق کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر داخلہ نے بالکل درست کہا تھا کہ سسٹم فیل ہوچکا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جعلی خطوط کے ذریعے اربوں روپے کے فراڈ کیے جاتے ہیں۔
چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ پی ڈبلیو ڈی کے ملازمین کو مختلف محکموں میں ایڈجسٹ کرکے تنخواہوں کی ادائیگی بڑی پیش رفت ہے۔