ہرجانہ نوٹس کے معاملے پر نیشنل لیبر فیڈریشن کراچی نے صدر خالد خان کے حق میں بیان جاری کیا ہے۔
فیڈریشن کے مطابق سندھ سوشل سیکیورٹی انسٹی ٹیوشن (سیسی) کی گورننگ باڈی کے رکن محمد خان ابڑو نے خالد خان کو 50 کروڑ روپے ہرجانے کا قانونی نوٹس بھیجا ہے۔
فیڈریشن کا مؤقف
نیشنل لیبر فیڈریشن کراچی کے نائب صدر امیر روان نے کہا کہ خالد خان نے کلثوم بائی ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی سے متاثرہ بچوں کے معاملے پر آواز اٹھائی تھی۔
انہوں نے کہا کہ اس واقعے میں 10 بچوں کی ہلاکت اور 130 سے زائد بچوں کے متاثر ہونے کے دعووں پر شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہییں۔
امیر روان نے مطالبہ کیا کہ اگر کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی ہوئی ہے تو ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔
انتظامیہ پر تنقید
انہوں نے لانڈھی اسپتال سے متعلق سیسی انتظامیہ کے مؤقف پر بھی اعتراض کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں مذہبی معاملات کو شامل کرنا مناسب نہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے علماء سے بھی رجوع کیا جائے گا۔
بیان میں محمد خان ابڑو اور میڈیکل ایڈوائزر کامران اعوان پر بھی تنقید کی گئی۔
فیڈریشن نے محتسبِ اعلیٰ سندھ سے کامران اعوان کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا۔
حقوق کے لیے جدوجہد جاری رکھنے کا اعلان
امیر روان نے کہا کہ محنت کشوں کے حقوق اور ادارے میں مبینہ بدعنوانی کے خلاف آواز اٹھانا جاری رکھی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ قانونی نوٹس کے ذریعے مزدوروں کی آواز دبانے کی کوشش قابلِ مذمت ہے۔
ان کے مطابق نیشنل لیبر فیڈریشن ہر سطح پر محنت کشوں کے حقوق کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی۔