آزاد کشمیر پولیس کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ مظاہروں میں شامل بعض افراد کے پاس اسلحہ موجود تھا۔ پولیس کے مطابق ان واقعات میں 174 اہلکار زخمی ہوئے جبکہ متعدد اہلکار جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
پولیس کے الزامات
مظفرآباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایس ایس پی ریاض مغل نے کہا کہ پرامن احتجاج کے لیے ہتھیار اٹھانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ان کے مطابق بعض افراد نے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر فائرنگ کی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ کارروائیاں منصوبہ بندی کے تحت کی گئیں۔
پولیس ترجمان نے مزید دعویٰ کیا کہ کالعدم قرار دی گئی ایک کمیٹی نے بعض افراد کے شناختی کارڈ اپنے قبضے میں رکھے ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق بعض مظاہرین کے پاس اسنائپر رائفلیں بھی موجود تھیں۔
مظاہرین سے متعلق دعوے
ایس ایس پی ریاض مغل نے کہا کہ بعض مظاہرین نے شہریوں کی روزمرہ زندگی بھی متاثر کی۔ ان کے بقول، کچھ افراد گھروں سے اشیائے خور و نوش بھی لے گئے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر احتجاج پرامن تھا تو سفید جھنڈوں کے ساتھ اسلحہ کیوں موجود تھا۔
پولیس ترجمان نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ مظاہرین میں شامل تقریباً 70 فیصد افراد جرائم پیشہ یا منشیات کے عادی تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض افراد اپنی فائرنگ سے زخمی ہونے کے بعد الزام پولیس پر عائد کرتے ہیں۔ تاہم ان دعوؤں کے حق میں فوری طور پر کوئی عوامی شواہد پیش نہیں کیے گئے۔
پولیس اہلکاروں کا نقصان
پولیس کے مطابق حالیہ جھڑپوں میں ایک سب انسپکٹر جان کی بازی ہار گیا۔ ایک اہلکار کی ریڑھ کی ہڈی فریکچر ہوئی جبکہ دیگر متعدد اہلکار بھی زخمی ہوئے۔ ترجمان نے کہا کہ اس سے قبل بھی تین پولیس اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔
مؤقف کا انتظار
پولیس کی جانب سے کیے گئے ان دعوؤں پر مظاہرین یا متعلقہ فریق کا فوری مؤقف سامنے نہیں آیا۔ اس لیے ان الزامات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔