نئے صوبے مصطفیٰ کمال نے سندھ میں انتظامی تقسیم کا مطالبہ کر دیا

نئے صوبے بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر مرکزی رہنما اور وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ موجودہ نظام ناکام ہو چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ میں انتظامی بنیادوں پر نئے صوبے قائم کرنا ناگزیر ہو گیا ہے۔

کراچی میں بہادرآباد مرکز پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے سندھ حکومت کی کارکردگی پر بھی تنقید کی۔

کراچی کے وسائل کا معاملہ

مصطفیٰ کمال نے دعویٰ کیا کہ سندھ حکومت کو گزشتہ 18 برس میں 22 ہزار ارب روپے ملے۔

انہوں نے کہا کہ کراچی کو صرف 680 ارب روپے دیے گئے۔

ان کے مطابق یہ مجموعی رقم کا تین فیصد سے بھی کم ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ کراچی نے صوبے کی آمدنی میں سب سے زیادہ حصہ ڈالا۔

جی ایس ٹی فارمولا

انہوں نے کہا کہ 2010 سے پہلے کراچی کو وفاقی جی ایس ٹی کا چھٹا حصہ براہِ راست ملتا تھا۔

ان کے مطابق اگر یہی فارمولا برقرار رہتا تو شہر کو دو ہزار ارب روپے مل سکتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ اس رقم سے صنعت، روزگار، اسکول اور اسپتالوں میں نمایاں بہتری آ سکتی تھی۔

احتجاج کا اعلان

مصطفیٰ کمال نے الزام لگایا کہ 18ویں ترمیم کے بعد اختیارات صوبائی حکومت تک محدود ہو گئے۔

انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان نے پارلیمنٹ میں آئینی ترمیم بھی پیش کی۔

ان کے مطابق یہ ترمیم منظور نہیں کی گئی۔

انہوں نے اعلان کیا کہ اب جماعت عوامی سطح پر احتجاج کرے گی۔

بنیادی سہولتوں پر تنقید

وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ سندھ کے کئی علاقوں میں عوام بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔

انہوں نے پانی، سیوریج، تعلیم اور صحت کے مسائل کا ذکر کیا۔

انہوں نے خیرپور میں احتجاج کرنے والی خواتین کی گرفتاری کی بھی مذمت کی۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ انہیں فوری رہا کیا جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!