پاسنگ آؤٹ پریڈ آئی جی سندھ نے نئے پولیس اہلکاروں پر عوامی اعتماد بحال کرنے پر زور دیا

پاسنگ آؤٹ پریڈ کی تقریب شاہد حیات پولیس ٹریننگ کالج سعید آباد میں منعقد ہوئی۔ آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو تقریب کے مہمانِ خصوصی تھے۔ انہوں نے تربیت مکمل کرنے والے تمام اہلکاروں کو مبارکباد دی۔

انہوں نے کہا کہ پولیس فورس کی مضبوطی معیاری تربیت اور بہترین افرادی قوت سے وابستہ ہے۔ ان کے مطابق عوام کا تحفظ، انصاف کی فراہمی اور دیانت داری سے خدمت پولیس کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

پولیس کو بڑے چیلنجز درپیش

آئی جی سندھ نے کہا کہ کراچی میں اسٹریٹ کرائم کا خاتمہ پولیس کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچے کے علاقوں میں ڈاکوؤں کے خلاف کارروائیاں بھی اہم چیلنج ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پولیس کی وردی اعزاز بھی ہے اور بڑی ذمہ داری بھی۔ نئے اہلکار اپنے کردار اور پیشہ ورانہ صلاحیت سے عوام کا اعتماد حاصل کریں۔

ٹریننگ کالجز کو اپ گریڈ کیا جائے گا

جاوید عالم اوڈھو نے کہا کہ شاہد حیات پولیس ٹریننگ کالج سعید آباد اور پی ٹی سی شہدادپور کو سینٹر آف ایکسی لینس بنایا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ دونوں اداروں کی اپ گریڈیشن کے لیے تقریباً 9 ارب 45 کروڑ روپے درکار ہیں۔ روزمرہ تربیتی امور کے لیے بھی 249.99 ملین روپے اضافی بجٹ کی ضرورت ہے۔

ٹرینی اہلکاروں کے لیے سہولیات

آئی جی سندھ نے کہا کہ ٹرینی اہلکاروں کے ڈائٹ چارجز 5 ہزار 500 روپے سے بڑھا کر 10 ہزار روپے ماہانہ کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ اس کی منظوری دے چکے ہیں، تاہم معاملہ محکمہ خزانہ میں زیر التوا ہے۔

انہوں نے ٹرینرز کے الاؤنس میں اضافے کی بھی تجویز دی۔ ان کے مطابق گریڈ 1 سے 16 کے ٹرینرز کا الاؤنس 30 ہزار روپے اور گریڈ 17 سے 21 کے افسران کا الاؤنس 50 ہزار روپے ہونا چاہیے۔

نئی آسامیوں کی تجویز

آئی جی سندھ نے کہا کہ ٹریننگ برانچ کے لیے 50 انسپکٹر، 50 سب انسپکٹر اور 100 اسسٹنٹ سب انسپکٹر کی نئی آسامیاں قائم کی جائیں۔

انہوں نے یہ بھی تجویز دی کہ رزاق آباد، سکرنڈ اور حیدرآباد کے مراکز کو باقاعدہ پولیس ٹریننگ اسکول (PTS) کا درجہ دیا جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!