ٹرمپ نے ایران کی جانب سے امریکا ایران مفاہمتی یادداشت پر عمل نہ کرنے کے اعلان کو غیر اہم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں اس فیصلے کی "بالکل بھی پروا نہیں”۔
امریکی ٹی وی نیٹ ورک نیوز نیشن کو ٹیلیفونک انٹرویو دیتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا کی بنیادی ترجیح یہ ہے کہ ایران کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔
جوہری پروگرام پر امریکی مؤقف برقرار
ٹرمپ نے کہا کہ امریکی پالیسی کا مرکز ایران کے جوہری پروگرام کو محدود رکھنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن اس معاملے پر اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔
سمر کیمپ 2026: وزیراعلیٰ بلوچستان کی طلبہ سے نشست، قومی سلامتی اور نوجوانوں کے کردار پر گفتگو
مفاہمتی یادداشت پر اختلافات
امریکا اور ایران گزشتہ ماہ جون کے وسط میں ایک مفاہمتی یادداشت پر متفق ہوئے تھے۔
اس یادداشت کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال میں کمی لانا تھا۔
تاہم حالیہ ہفتوں میں آبنائے ہرمز، بحری نقل و حمل اور سلامتی سے متعلق اختلافات دوبارہ شدت اختیار کر گئے۔
ان اختلافات کے باعث مفاہمتی یادداشت کی افادیت بھی متاثر ہوئی ہے۔
سفارتی تعلقات پر غیر یقینی صورتحال
ایران کی جانب سے مفاہمتی یادداشت پر عمل نہ کرنے کے اعلان کے بعد دونوں ممالک کے درمیان مستقبل کے مذاکرات غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہو گئے ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق حالیہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی فاصلے دوبارہ بڑھ رہے ہیں۔
ان کے مطابق خطے میں جاری کشیدگی کسی نئے بحران کو جنم دے سکتی ہے۔