جے ڈی وینس: ایران میں حکومت کی تبدیلی کے لیے امریکا زمینی فوج نہیں بھیجے گا

جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ امریکا ایران میں حکومت کی تبدیلی کے لیے زمینی فوج نہیں بھیجے گا اور اگر ایرانی عوام اپنے سیاسی نظام میں تبدیلی چاہتے ہیں تو یہ فیصلہ صرف ان کا اپنا ہوگا۔

امریکی نائب صدر نے ایک پوڈ کاسٹ انٹرویو میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے منسوب ان خبروں کی بھی تردید کی جن میں ایران میں امریکی زمینی فوج بھیجنے پر غور کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ایران سے مذاکرات کی مخالفت کرنے والوں کے پاس مسلسل اور غیر مؤثر بمباری کے علاوہ کوئی حقیقت پسندانہ حکمت عملی موجود نہیں۔ ان کے مطابق ایران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانا ایک محدود اور قلیل مدتی مقصد تھا۔

جے ڈی وینس نے کہا کہ امریکا کی بنیادی ترجیح آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنا اور عالمی منڈیوں تک تیل اور گیس کی بلا تعطل ترسیل کو یقینی بنانا ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسرائیلی حکومت کے بعض عناصر نے ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کو ناکام بنانے کے لیے امریکا میں غیر ملکی اثر و رسوخ کی مہم پر بھاری اخراجات کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ہر صورت امریکی مفادات کو ترجیح دیں گے۔

جو روگن پوڈ کاسٹ میں تقریباً تین گھنٹے طویل گفتگو کے دوران امریکی نائب صدر نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اسرائیل امریکا میں رائے عامہ پر اثر انداز ہو کر ایران کے خلاف جنگ کو غیر معینہ مدت تک جاری رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔

جے ڈی وینس نے مزید الزام عائد کیا کہ سزا یافتہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کا اسرائیلی انٹیلی جنس کی اعلیٰ سطح سے تعلق تھا، تاہم انہوں نے اپنے اس دعوے کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔

یاد رہے کہ اس سے قبل ایک امریکی اخبار نے نامعلوم امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران میں امریکی زمینی فوج بھیجنے کے امکان پر غور کر رہے ہیں، تاہم امریکی نائب صدر نے اس تاثر کی تردید کر دی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!