...

کراچی لوڈشیڈنگ: سرکاری کالجوں اور نجی اسکولوں کے دفتری امور متاثر، داخلہ مہم بھی سست روی کا شکار

کراچی لوڈشیڈنگ کے باعث سرکاری کالجوں اور نجی اسکولوں میں نئے تعلیمی سال کی تیاریوں سے متعلق دفتری امور شدید متاثر ہو گئے ہیں۔ حکام کے مطابق گزشتہ تقریباً تین ہفتوں سے جاری بجلی کی بندش نے آن لائن رجسٹریشن، کمپیوٹرائزڈ سرٹیفکیٹس کے اجرا، شکایات کے اندراج اور سرکاری کالجوں کی داخلہ مہم کو متاثر کر دیا ہے۔

برنس روڈ پر واقع ڈائریکٹوریٹ آف انسپیکشن اینڈ رجسٹریشن آف پرائیویٹ انسٹی ٹیوشنز سمیت ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ، ریجنل ڈائریکٹر گورنمنٹ کالجز سندھ، ڈائریکٹر جنرل پرائیویٹ انسٹی ٹیوشنز سندھ اور ریجنل ڈائریکٹر پرائیویٹ اسکولز کراچی کے دفاتر میں بجلی کی طویل بندش کے باعث دفتری سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری نہیں رہ سکیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ دفتری اوقات کے دوران روزانہ کئی گھنٹے بجلی بند رہتی ہے۔ صبح تقریباً 11 بجے سے دوپہر 2 بجے تک اور پھر شام 4 بجے کے بعد بجلی کی بندش معمول بن چکی ہے، جس کے نتیجے میں آٹھ گھنٹے کے سرکاری اوقات میں صرف تین سے چار گھنٹے ہی بجلی دستیاب رہتی ہے۔

ڈپٹی ڈائریکٹر انسپیکشنز کے مطابق لوڈشیڈنگ سے کمپیوٹر، انٹرنیٹ اور پرنٹنگ کا نظام بار بار معطل ہو جاتا ہے، جس کے باعث پرائیویٹ اسکولوں کی آن لائن رجسٹریشن، کمپیوٹرائزڈ سرٹیفکیٹس کے اجرا، آن لائن شکایات کے اندراج اور دیگر اہم دفتری کارروائیاں بروقت مکمل نہیں ہو پا رہیں۔

انہوں نے کہا کہ تمام بجلی کے واجبات ادا کیے جا چکے ہیں، اس کے باوجود دفتری اوقات میں لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ متعدد بار متعلقہ حکام اور کے-الیکٹرک سے رابطہ کیا گیا اور باضابطہ خطوط بھی ارسال کیے گئے، تاہم تاحال مسئلے کا مؤثر حل سامنے نہیں آیا۔

محکمہ کالجز کے حکام کے مطابق سندھ بھر کے سرکاری کالجوں میں جاری داخلہ مہم بھی اس صورت حال سے متاثر ہو رہی ہے۔ روزانہ بڑی تعداد میں طلبہ، والدین، اساتذہ، پرنسپلز، اسکول مالکان اور دیگر سائلین مختلف دفتری امور کے لیے ان دفاتر کا رخ کرتے ہیں، مگر بجلی کی عدم دستیابی کے باعث انہیں گھنٹوں انتظار کرنا پڑتا ہے اور کئی افراد بغیر کام کرائے واپس لوٹ جاتے ہیں۔

حکام نے مزید بتایا کہ بجلی کی بندش کے دوران دفاتر میں پنکھے اور ایئرکنڈیشنرز بند ہونے سے شدید حبس پیدا ہو جاتا ہے، جس کے باعث افسران اور ملازمین دفاتر سے باہر بیٹھ کر کام کرنے پر مجبور ہیں۔

محکمہ کالجز کے حکام نے مطالبہ کیا ہے کہ دفتری اوقات میں جاری لوڈشیڈنگ کا فوری نوٹس لیا جائے، بجلی کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے اور ٹرانسفارمر سمیت دیگر تکنیکی مسائل جلد حل کیے جائیں تاکہ سرکاری خدمات اور تعلیمی امور معمول کے مطابق جاری رہ سکیں۔

اس معاملے پر مؤقف جاننے کے لیے کے-الیکٹرک کے ترجمان سے رابطہ کیا گیا، تاہم خبر کی اشاعت تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!
Seraphinite AcceleratorOptimized by Seraphinite Accelerator
Turns on site high speed to be attractive for people and search engines.