ایران مذاکرات سے متعلق ایک امریکی ویب سائٹ نے نئی رپورٹ شائع کی۔
رپورٹ میں ایرانی حکام سے منسوب کئی دعوے کیے گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ایرانی حکام نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کو نجی پیغام بھیجا۔
دعویٰ کیا گیا کہ پیغام میں امریکی مذاکراتی ٹیم پر اعتراضات اٹھائے گئے۔
ویب سائٹ کے مطابق یہ بات گزشتہ ماہ سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات کے دوران سامنے آئی۔
ایرانی حکام نے اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کُشنر کے کردار پر بھی تحفظات ظاہر کیے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ دونوں شخصیات مالیاتی منڈیوں سے فائدہ اٹھانا چاہتی ہیں۔
ویب سائٹ نے دعویٰ کیا کہ اس مبینہ سرگرمی کی مالیت جون تک 9 ارب ڈالر پہنچ گئی۔
رپورٹ کے مطابق ایرانی حکام نے ایک اور اعتراض بھی اٹھایا۔
ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کی اہم معلومات اسرائیلی وزیراعظم تک پہنچ رہی تھیں۔
ویب سائٹ نے ایک امریکی اہلکار کا حوالہ بھی دیا۔
دعویٰ کیا گیا کہ وٹکوف اور کُشنر تقریباً روزانہ اسرائیلی حکام سے رابطے میں رہے۔
رپورٹ میں اسلام آباد کی مفاہمتی یادداشت کا بھی ذکر کیا گیا۔
ویب سائٹ کے مطابق ایرانی حکام نے ثالثوں کے ذریعے تحریری شواہد بھی فراہم کیے۔
وائٹ ہاؤس نے ان تمام دعوؤں کو مسترد کر دیا۔
ترجمان اینا کیلی نے رپورٹ کو ایرانی پروپیگنڈا قرار دیا۔
دوسری جانب نائب صدر کے قریبی ذرائع نے ایک بات کی تصدیق کی۔
ذرائع کے مطابق ایرانی حکام نے وٹکوف اور کُشنر کی موجودگی پر اعتراض ضرور کیا تھا۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ ایرانی حکام مذاکراتی ٹیم کو وسعت دینا چاہتے ہیں۔
ان کے مطابق مزید اہلکار شامل ہونے سے مذاکرات مؤثر ہو سکتے ہیں۔