ولیکا ہسپتال انکوائری کے حوالے سے قائم کی گئی تحقیقاتی کمیٹی پر نئے سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق کراچی کے کلثوم بائی ولیکا ہسپتال میں ایچ آئی وی کیس کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی کمیٹی میں ہسپتال کے اُس وقت کے ایڈمنسٹریٹر وکیل الدین کمال شاہ کو سیکریٹری مقرر کیا گیا، جس پر تحقیقات کی شفافیت سے متعلق تحفظات سامنے آئے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بطور ایڈمنسٹریٹر وکیل الدین کمال شاہ کی ذمہ داریوں میں ہسپتال کی مجموعی انتظامیہ، صفائی، صحت سے متعلق انتظامات، بجٹ اور دیگر انتظامی امور شامل تھے۔ اسی بنیاد پر بعض متعلقہ حلقوں کا مؤقف ہے کہ انہیں تحقیقات کا موضوع ہونا چاہیے تھا، تاہم انہیں انکوائری کمیٹی میں اہم انتظامی ذمہ داری سونپ دی گئی۔
ذرائع کے مطابق ہسپتال میں ایچ آئی وی کے کیسز سامنے آنے کے باوجود بطور ایڈمنسٹریٹر متعلقہ حکام یا ہیڈ آفس کو بروقت تحریری طور پر آگاہ نہیں کیا گیا۔ یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ سابق میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ممتاز شیخ نے تحقیقاتی کمیٹی پر اپنے تحفظات سے متعلق متعلقہ حکام کو ایک خط بھی ارسال کیا تھا۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ وکیل الدین کمال شاہ اس وقت بھی سوشل سیکیورٹی میں ڈائریکٹر ایڈمن کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان کے خلاف کارروائی کے بجائے انہیں انکوائری کمیٹی کا سیکریٹری مقرر کرنے سے تحقیقات کی غیرجانبداری اور شفافیت پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
متاثرین اور بعض متعلقہ افراد نے مطالبہ کیا ہے کہ وکیل الدین کمال شاہ کو بھی تحقیقات میں شامل کیا جائے اور موجودہ انکوائری کمیٹی کو تحلیل کرکے ایک آزاد اور غیرجانبدار کمیٹی تشکیل دی جائے تاکہ ایچ آئی وی کیس کی شفاف تحقیقات یقینی بنائی جا سکیں۔
اس معاملے پر مؤقف جاننے کے لیے متعلقہ حکام سے رابطے کی کوشش کی گئی، تاہم خبر فائل ہونے تک ان کا ردِعمل موصول نہیں ہو سکا۔
