توانائی بچت کو فروغ دینے کے لیے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیرِ صدارت سندھ انرجی ایفیشنسی اینڈ کنزرویشن ایجنسی (SEECA) کے بورڈ کے پانچویں اجلاس میں صوبے کے لیے جامع روڈ میپ کی منظوری دے دی گئی۔ اجلاس میں توانائی کے مؤثر استعمال، بجلی کی بچت اور پائیدار ترقی کے لیے اصلاحاتی اقدامات تیز کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔
اجلاس میں پرنسپل سیکریٹری آغا واصف عباس، سیکریٹری توانائی شعیب انصاری، اسپیشل سیکریٹری خزانہ اصغر میمن، بورڈ کے دیگر ارکان، جنرل منیجر ایس ای ای سی اے عبدالباسط صدیقی (ویڈیو لنک کے ذریعے) اور نیشنل انرجی ایفیشنسی اینڈ کنزرویشن اتھارٹی (NEECA) کے منیجنگ ڈائریکٹر نے شرکت کی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ SEECA رولز 2022 کو NEECA ایکٹ 2016 کی روشنی میں مرتب کیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے توانائی کی بچت سے متعلق پالیسیوں اور پروگراموں پر مؤثر عمل درآمد کی ہدایت دیتے ہوئے رولز 2022 میں اہم ترامیم کی منظوری بھی دی۔ اجلاس میں ایجنسی کی گورننس، انتظامی تسلسل اور تکنیکی استعداد مزید مضبوط بنانے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ سرکاری اداروں، صنعتی شعبے اور گھریلو سطح پر توانائی کے استعمال میں نمایاں کمی لانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ بچایا گیا ہر یونٹ نئی پیدا ہونے والی توانائی کے برابر ہے، جبکہ توانائی کی بچت بڑھتی ہوئی طلب اور موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز سے نمٹنے کا کم لاگت اور مؤثر ذریعہ ہے۔
اجلاس میں ایس ای ای سی اے اور این ای ڈی یونیورسٹی کے اشتراک سے جدید انرجی ایفیشنسی ٹیسٹنگ لیبارٹری قائم کرنے کی منظوری دی گئی۔ اس لیبارٹری میں پنکھوں، لائٹنگ مصنوعات اور الیکٹرک موٹرز کی قومی اور بین الاقوامی معیار کے مطابق جانچ کی جائے گی، جبکہ توانائی بچانے والی مصنوعات کی لیبلنگ، سرٹیفکیشن اور معیار کی تصدیق بھی ممکن ہو سکے گی۔
وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ اس لیبارٹری کو تحقیق، جدت اور تکنیکی استعداد کے مرکز میں تبدیل کیا جائے تاکہ مجوزہ سندھ گرین بلڈنگ کوڈ اور توانائی مؤثر سرکاری خریداری پالیسیوں کے نفاذ میں بھی معاونت حاصل ہو۔
اجلاس میں SEECA سروس ریگولیشنز 2026 اور نئے تنظیمی ڈھانچے کی منظوری بھی دی گئی۔ اس کے تحت ایجنسی کی تکنیکی اور ریگولیٹری صلاحیت میں اضافہ، میرٹ پر بھرتیاں، کارکردگی جانچنے کا مؤثر نظام اور پیشہ ورانہ تربیت کے پروگرام متعارف کرائے جائیں گے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے ایس ای ای سی اے کے لیے الیکٹرک اور ہائبرڈ گاڑیوں کی خریداری کی منظوری دیتے ہوئے ہدایت کی کہ سرکاری اداروں کو مرحلہ وار ماحول دوست اور توانائی مؤثر ٹرانسپورٹ کی جانب منتقل کیا جائے۔ اجلاس میں صوبے بھر میں توانائی کی بچت سے متعلق جامع عوامی آگاہی اور تربیتی مہم شروع کرنے کی بھی منظوری دی گئی، جس کے تحت ڈیجیٹل میڈیا، تعلیمی اداروں، صنعتوں اور سرکاری محکموں میں ذمہ دارانہ توانائی استعمال کے بارے میں شعور اجاگر کیا جائے گا۔
مراد علی شاہ نے صوبے کی تمام سرکاری عمارتوں اور انفراسٹرکچر کا انرجی آڈٹ کرانے کی منظوری دیتے ہوئے ہدایت کی کہ بجلی کے اخراجات میں کمی کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ انرجی آڈٹ کے ذریعے روشنی کے نظام، ایچ وی اے سی، پمپس، موٹرز اور دیگر برقی آلات میں توانائی کے ضیاع کی نشاندہی کی جائے گی، جبکہ تمام صوبائی محکمے ایس ای ای سی اے کے ساتھ مکمل تعاون کریں گے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ بہتر توانائی انتظام سے ہونے والی بچت عوامی فلاح و بہبود اور ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کی جائے گی۔ اجلاس میں توانائی کی بچت کے منصوبوں پر مؤثر عمل درآمد، ایس ای ای سی اے کے مالی وسائل میں اضافے اور سرکاری خریداری میں توانائی کے معیار کو مزید مضبوط بنانے کی بھی منظوری دی گئی۔
انہوں نے کہا کہ توانائی کی بچت، ماحولیاتی تحفظ اور مالیاتی نظم و ضبط سندھ حکومت کی پائیدار ترقی کی حکمت عملی کے بنیادی ستون ہیں۔