خطرناک عمارتیں مون سون بارشوں کے دوران شہریوں کے لیے ممکنہ خطرہ بن سکتی ہیں، جس کے پیش نظر سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) نے رین ایمرجنسی کے انتظامات مکمل کرتے ہوئے شہر بھر میں خصوصی آگاہی مہم شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ایس بی سی اے کے مطابق ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر وسیم شمشاد علی کی ہدایات پر 11 جولائی (ہفتہ) اور 12 جولائی (اتوار) کو ڈیمولیشن سیکشن سمیت تمام ٹاؤنز کے افسران اور عملہ خطرناک قرار دی گئی عمارتوں کا دورہ کرے گا۔ اس دوران شہریوں کو ممکنہ خطرات سے آگاہ کرنے کے لیے خصوصی مہم بھی چلائی جائے گی۔
ترجمان ایس بی سی اے نے بتایا کہ شہر کے مختلف علاقوں میں موجود خستہ حال اور خطرناک عمارتوں پر وارننگ بینرز آویزاں کیے جائیں گے، جبکہ لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے اعلانات بھی کیے جائیں گے تاکہ رہائشیوں، دکانداروں اور راہگیروں کو مون سون بارشوں کے دوران احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ترغیب دی جا سکے۔
ادارے کے مطابق بارشوں کے موسم میں کمزور اور بوسیدہ عمارتوں کے گرنے کے خدشات بڑھ جاتے ہیں، اس لیے شہریوں میں حفاظتی شعور بیدار کرنا ناگزیر ہے۔ آگاہی مہم کے دوران متعلقہ افسران خطرناک عمارتوں کا معائنہ بھی کریں گے اور مالکان و مکینوں کو ضروری حفاظتی اقدامات سے متعلق ہدایات دیں گے۔
ڈاکٹر وسیم شمشاد علی نے تمام متعلقہ افسران کو ہدایت کی ہے کہ مون سون کے دوران رین ایمرجنسی پلان پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جائے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام فیلڈ ٹیمیں ہر وقت الرٹ رہیں۔
انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ خطرناک قرار دی گئی عمارتوں میں رہائش سے گریز کریں اور ایسی عمارتوں کے قریب غیر ضروری نقل و حرکت سے بھی اجتناب کریں تاکہ کسی بھی ممکنہ حادثے سے محفوظ رہا جا سکے۔
ایس بی سی اے کے مطابق اس آگاہی مہم کا بنیادی مقصد انسانی جانوں کا تحفظ، مون سون بارشوں کے دوران ممکنہ حادثات کی روک تھام اور شہریوں میں حفاظتی شعور کو فروغ دینا ہے۔
