دہشت گردی: ڈی جی آئی ایس پی آر کا دوٹوک مؤقف، دہشت گردوں اور سہولت کاروں کا ہر جگہ تعاقب کریں گے

دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے مؤقف کو دہراتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر احمد شریف چودھری نے کہا ہے کہ فتنہ الہندوستان کا بلوچستان سے کوئی تعلق نہیں، جبکہ فتنہ الخوارج کا اسلام سے بھی کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست پاکستان دہشت گردوں، ان کے سہولت کاروں اور سرپرستوں کا ہر سطح پر تعاقب جاری رکھے گی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان متعدد بار عالمی سطح پر واضح کر چکا ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گرد کارروائیوں کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق ان سرگرمیوں کو افغان طالبان حکومت کی پشت پناہی حاصل ہے، جبکہ کراچی حملے کی منصوبہ بندی بھی افغانستان میں کی گئی۔ انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ بلوچستان میں دہشت گردی کے پیچھے بھارت ملوث ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ منگی ڈیم اور کوئٹہ پمپنگ اسٹیشن کے علاقوں میں دہشت گردی کے واقعات پیش آئے، جبکہ زیارت میں سیکیورٹی فورسز نے مؤثر کارروائی کرتے ہوئے کم از کم 15 دہشت گرد ہلاک کیے۔ انہوں نے بتایا کہ دہشت گرد اپنے 15 ساتھیوں کی لاشیں چھوڑ کر فرار ہو گئے، جبکہ آج کیے گئے دو مزید آپریشنز میں مزید 14 دہشت گرد مارے گئے۔ ان کے مطابق گزشتہ چند روز کے دوران مجموعی طور پر 54 دہشت گرد ہلاک کیے جا چکے ہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے بتایا کہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں میں پولیس کے 18 اہلکار شہید ہوئے، جبکہ تین دہشت گرد حملوں میں وطن کا دفاع کرتے ہوئے مجموعی طور پر 42 سیکیورٹی اہلکاروں نے جان کا نذرانہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ زیارت میں شہید ہونے والے تمام پولیس اہلکار مقامی اور مسلمان تھے، اس لیے دہشت گردوں کا یہ دعویٰ کہ وہ بلوچستان یا اسلام کے لیے لڑ رہے ہیں، حقائق کے منافی ہے۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں نے معصوم بچوں کو یرغمال بنایا، مقامی آبادی کو نشانہ بنایا اور عوام میں خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ بے گناہ شہریوں اور سیکیورٹی اہلکاروں پر حملے کرنے والوں کو کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی اور قانون نافذ کرنے والے ادارے انہیں ہر جگہ انجام تک پہنچائیں گے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بلوچستان پاکستان کی طاقت، عزت اور مستقبل کا اہم حصہ ہے، جبکہ صوبے کی ترقی پاکستان کی ترقی سے جڑی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گرد ہر اس منصوبے کی مخالفت کرتے ہیں جس سے بلوچستان کے عوام کو فائدہ پہنچے، کیونکہ وہ پاکستان کی ترقی اور استحکام کے دشمن ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردی کے معاملے پر عسکری اور سیاسی قیادت کا مؤقف مکمل طور پر واضح ہے۔ اگر دہشت گرد پاکستانی شہریوں پر حملے کریں گے تو ریاست ان سے مذاکرات نہیں کرے گی بلکہ ہر سطح پر ان کا تعاقب کرے گی۔

اپنے بیان کے اختتام پر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابی حاصل کرے گا اور دہشت گردوں، ان کے سہولت کاروں اور سرپرستوں کے مکمل خاتمے تک بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!