جائیداد تنازع: ملیر میں بیٹے نے دوست کے ساتھ مل کر والد کو قتل کرایا، ڈکیتی کا ڈرامہ بے نقاب

کراچی: جائیداد تنازع پر کراچی کے ضلع ملیر میں ایک شخص کے مبینہ قتل کا معمہ پولیس نے حل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ پولیس کے مطابق مقتول کے بیٹے نے اپنے قریبی دوست کے ساتھ مل کر والد کے قتل کی منصوبہ بندی کی اور واردات کو ڈکیتی کا رنگ دے کر شواہد چھپانے کی کوشش کی، تاہم ٹیکنیکل اور خفیہ معلومات کی مدد سے دونوں ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا۔

ترجمان ملیر پولیس کے مطابق چند روز قبل تھانہ ابراہیم حیدری کی حدود لیبر کالونی میں محمد اقبال کو گھر کے اندر فائرنگ کر کے قتل کیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مقتول موقع پر ہی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جان کی بازی ہار گیا تھا، جس کے بعد واقعے کا مقدمہ تھانہ ابراہیم حیدری میں الزام نمبر 482/26 کے تحت دفعہ 302/34 تعزیراتِ پاکستان کے مطابق درج کیا گیا۔

ایس ایس پی ملیر ڈاکٹر عبدالخالق کی ہدایت پر کیس کی تفتیش کے لیے ایس پی ملیر، ڈی ایس پی سکھن اور ایس ایچ او ابراہیم حیدری کی سربراہی میں خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئیں۔ پولیس کے مطابق ٹیموں نے ٹیکنیکل شواہد اور خفیہ معلومات کی بنیاد پر تحقیقات آگے بڑھائیں اور اندھے قتل کا سراغ لگا لیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ مقتول کا بیٹا اعجاز جائیداد کے تنازع کے باعث اپنے والد کو راستے سے ہٹانا چاہتا تھا۔ الزام ہے کہ اس نے اپنے دوست شیراز کو قتل کے بدلے 15 ہزار روپے نقد اور ایک آئی فون دینے کی پیشکش کی۔

پولیس کے مطابق شیراز نے مبینہ طور پر رقم اور آئی فون کے لالچ میں محمد اقبال کو فائرنگ کر کے قتل کیا، جبکہ دونوں ملزمان نے واردات کو ڈکیتی ظاہر کرنے کی کوشش بھی کی۔

کارروائی کے دوران پولیس نے اعجاز اور اس کے قریبی دوست شیراز کو گرفتار کر لیا۔ پولیس کے مطابق ملزمان کے قبضے سے ایک پستول، راؤنڈز، موبائل فون اور واردات میں استعمال ہونے والی موٹرسائیکل بھی برآمد ہوئی ہے۔

پولیس نے دونوں ملزمان کو مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن ونگ کے حوالے کر دیا ہے۔ ایس ایس پی ملیر ڈاکٹر عبدالخالق نے کیس کو ٹیکنیکل اور پیشہ ورانہ انداز میں حل کرنے پر پولیس ٹیم کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے ہدایت دی کہ مقدمے کے تمام پہلوؤں پر مزید مؤثر تفتیش کی جائے۔

ترجمان ملیر پولیس کے مطابق واقعے میں ممکنہ طور پر ملوث دیگر افراد کی گرفتاری کے لیے بھی چھاپہ مار کارروائیاں جاری ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!