...

بی بی سی رپورٹ: دہشت گردی کی رپورٹنگ میں استعمال ہونے والی اصطلاحات پر نئے سوالات

دہشت گردی کی رپورٹنگ میں استعمال ہونے والی زبان اور اصطلاحات ایک بار پھر بحث کا موضوع بن گئی ہیں۔ عالمی سطح پر دہشت گرد قرار دی جانے والی تنظیموں کے لیے بعض میڈیا اداروں کی جانب سے "شدت پسند” یا "عسکریت پسند” جیسی اصطلاحات استعمال کرنے پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ ایسے الفاظ واقعات کی نوعیت کو نرم انداز میں پیش کرتے ہیں۔

ناقدین کے مطابق جب کسی تنظیم کو عالمی سطح پر دہشت گرد قرار دیا جا چکا ہو تو رپورٹنگ میں واضح اور دوٹوک اصطلاحات اختیار کی جانی چاہییں۔ ان کا مؤقف ہے کہ الفاظ صرف معلومات کی ترسیل کا ذریعہ نہیں ہوتے بلکہ عوامی تاثر اور بیانیے کی تشکیل میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

اس تناظر میں یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا دنیا کے مختلف شہروں، جیسے نیویارک، لندن، پیرس یا میڈرڈ میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کی رپورٹنگ میں بھی اسی نوعیت کی نرم اصطلاحات استعمال کی جاتی ہیں، یا مختلف خطوں کے لیے الگ ادارتی معیار اپنایا جاتا ہے۔

تنقید کرنے والوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ بعض رپورٹس میں دہشت گردوں کے اقدامات اور بیانات کو نسبتاً زیادہ جگہ دی جاتی ہے، جبکہ حملوں میں جان گنوانے والے شہریوں، بچوں، خواتین، سیکیورٹی اہلکاروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مؤقف کو محدود انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق متوازن صحافت کا تقاضا ہے کہ متاثرین اور ریاستی مؤقف کو بھی یکساں اہمیت دی جائے۔

میڈیا مبصرین کے مطابق دہشت گردی جیسے حساس موضوعات پر رپورٹنگ کرتے وقت الفاظ کے انتخاب، حقائق کی درست عکاسی اور تمام متعلقہ فریقوں کے مؤقف کو متوازن انداز میں پیش کرنا صحافتی ذمہ داری کا بنیادی تقاضا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسی طرزِ عمل سے عوام کا اعتماد برقرار رکھا جا سکتا ہے اور غیرجانبدار صحافت کو فروغ ملتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!
Seraphinite AcceleratorOptimized by Seraphinite Accelerator
Turns on site high speed to be attractive for people and search engines.