آبنائے ہرمز ٹرمپ کا ایران سے بڑی رعایتوں کا دعویٰ، پاسداران انقلاب کا انتباہ

آبنائے ہرمز کے معاملے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران معاہدے کے نتیجے میں بڑی رعایتیں دے رہا ہے اور امریکا اس سفارتی عمل میں کامیاب ہو رہا ہے۔

نیٹو سربراہ کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے خلاف تنازع میں انہیں اپنے اتحادیوں کی مکمل حمایت حاصل نہیں ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ وہ برطانیہ، فرانس، جرمنی، اسپین اور اٹلی کے مؤقف سے مایوس ہیں۔

یورپی ممالک سے مایوسی

امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایران کے معاملے پر امریکا کو یورپی ممالک کی مطلوبہ حمایت نہیں ملی۔

سینیٹ روانگی سے قبل صحافیوں سے مختصر گفتگو میں ٹرمپ نے کہا کہ معاملات مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکا ایران کے ساتھ جاری کشیدگی میں کامیابی حاصل کر رہا ہے۔

اس سے قبل ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر ٹول ٹیکس نہ لینے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر یہ اطلاعات غلط ثابت ہوئیں تو مذاکرات فوری طور پر ختم تصور کیے جائیں گے۔

منجمد اثاثوں پر ٹرمپ کا مؤقف

امریکی صدر نے ایران کے منجمد اثاثوں سے متعلق خبروں کی بھی تردید کی۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران کو براہِ راست فنڈز جاری نہیں کیے جا رہے۔

ٹرمپ کے مطابق ایران امریکی کسانوں سے خوراک خرید سکتا ہے اور ادائیگی منجمد اثاثوں سے کی جا سکتی ہے۔

آبنائے ہرمز پر ایران کا انتباہ

دوسری جانب ایرانی پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز سے متعلق سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔

پاسداران انقلاب کے مطابق ایران سے مشاورت کے بغیر کسی نئے بحری راستے کا اعلان ناقابل قبول ہوگا۔

بیان میں کہا گیا کہ ایسا اقدام خطے کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

ایرانی حکام کے مطابق محفوظ بحری گزرگاہ صرف انہی راستوں پر ممکن ہے جن کی نشاندہی ایران نے کی ہے۔

پاسداران انقلاب نے خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو ایرانی بحریہ سے رابطہ رکھنا ہوگا۔

بیان کے مطابق ہدایات کی خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!