...

بھارتی تنہائی: سفارتی دھچکوں کے بعد بھارت کو عالمی سطح پر بڑھتے چیلنجز کا سامنا

بھارتی تنہائی: نام نہاد "وشو گرو” بننے کے دعوے کرنے والے بھارت کو سفارتی محاذ پر مسلسل چیلنجز کا سامنا ہے، جبکہ عالمی سطح پر اس کی تزویراتی پوزیشن اور بین الاقوامی شراکت داریوں کے مستقبل پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔

بھارت کو حالیہ برسوں میں مختلف سفارتی دھچکوں کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس کے باعث عالمی منظرنامے میں اس کی تنہائی کے حوالے سے بحث میں اضافہ ہوا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نئی عالمی صف بندی اور بڑی طاقتوں کی بدلتی ترجیحات نے نئی دہلی کے لیے کئی چیلنجز پیدا کر دیے ہیں۔

بھارتی جریدے فرسٹ پوسٹ کے مطابق انڈو پیسفک سے وسیع تر ایشیائی خطے تک بھارت کی سفارتی مشکلات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت کی یہ توقعات بھی کمزور پڑتی دکھائی دے رہی ہیں کہ امریکا خطے میں اس کا غیر متزلزل اور مضبوط اتحادی ثابت ہوگا۔

رپورٹ کے مطابق امریکا اور بھارت کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کے باوجود واشنگٹن کی ترجیحات میں تبدیلی کے آثار نمایاں ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ چین کے بڑھتے اثر و رسوخ کے تناظر میں بھارت نے امریکا کے ساتھ قریبی تعاون کو اپنی خارجہ پالیسی کا اہم ستون بنایا تھا، تاہم موجودہ حالات اس تصور کو پیچیدہ بنا رہے ہیں۔

امریکی نائب وزیر خارجہ کرسٹوفر لینڈاؤ کے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ امریکا ایسے معاشی مواقع فراہم کرنے میں محتاط رویہ اختیار کر رہا ہے جو مستقبل میں بھارت کو امریکی صنعت اور تجارت کا بڑا حریف بنا سکتے ہیں۔

دفاعی اور علاقائی امور کے ماہرین کے مطابق جنوبی ایشیا میں بدلتی ہوئی صورتحال نے بھارت کے "نیٹ سیکیورٹی پرووائیڈر” ہونے کے دعوؤں پر بھی نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان اپنی جغرافیائی اہمیت، علاقائی روابط اور تزویراتی کردار کے باعث بین الاقوامی سطح پر اہمیت حاصل کر رہا ہے، جس سے خطے میں طاقت کے توازن کے بارے میں نئی آرا سامنے آ رہی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!
Seraphinite AcceleratorOptimized by Seraphinite Accelerator
Turns on site high speed to be attractive for people and search engines.