جعلی لائسنس کے استعمال پر ایف آئی اے امیگریشن نے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کراچی پر ایک مسافر کو آف لوڈ کر دیا۔ مسافر سعودی عرب بطور ڈرائیور ملازمت کے لیے روانہ ہو رہا تھا۔
یہ جعلی لائسنس اس وقت سامنے آیا جب امیگریشن حکام نے معمول کی جانچ کے دوران دستاویزات کی تصدیق کی۔ ابتدائی معائنے میں متعدد تضادات سامنے آنے کے بعد مسافر کو سفر سے روک دیا گیا۔
ایف آئی اے اور جعلی لائسنس انکشاف
ترجمان ایف آئی اے کے مطابق مسافر ورک ویزا اور پروٹیکٹر کلیئرنس کے ساتھ سعودی عرب جا رہا تھا۔ تاہم جانچ کے دوران پیش کردہ ڈرائیونگ لائسنس مشکوک پایا گیا۔
حکام کے مطابق لائسنس پر درج شناختی کارڈ نمبر مسافر کے اصل شناختی کارڈ نمبر سے مطابقت نہیں رکھتا تھا۔ مزید برآں کیو آر کوڈ اسکین کرنے پر کسی اور شخص کی معلومات سامنے آئیں۔
اسی وجہ سے دستاویز کے جعلی ہونے کا شبہ مزید مضبوط ہو گیا۔
جناح ایئرپورٹ جعلی لائسنس تحقیقات
ایف آئی اے کے مطابق ابتدائی پوچھ گچھ میں مسافر نے اعتراف کیا کہ اس نے کبھی کسی سرکاری ڈرائیونگ لائسنس دفتر سے رجوع نہیں کیا تھا۔
مسافر کے مطابق مذکورہ لائسنس ایک ایجنٹ نے معاوضے کے عوض تیار کروا کر دیا تھا۔ حکام نے اس انکشاف کو تحقیقات کا اہم حصہ قرار دیا ہے۔
مزید برآں متعلقہ افراد کے کردار کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
سعودی عرب ویزا اور ایجنٹس کا کردار
ابتدائی بیان کے مطابق مسافر نے بتایا کہ سعودی عرب کا ورک ویزا ایک دوسرے ایجنٹ کے ذریعے حاصل کیا گیا تھا۔
اسی طرح پروٹیکٹر کلیئرنس ایک اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹر کے ذریعے حاصل کی گئی تھی۔ ایف آئی اے اب ان تمام معاملات کی چھان بین کر رہی ہے۔
حکام کے مطابق دستاویزات کی مکمل جانچ کے بعد مزید حقائق سامنے آ سکتے ہیں۔
ایف آئی اے قانونی کارروائی شروع
جعلی دستاویزات کے استعمال اور مشتبہ حالات کے پیش نظر مسافر کو آف لوڈ کر دیا گیا ہے۔
ایف آئی اے کے مطابق کیس مزید تحقیقات اور قانونی کارروائی کے لیے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل (AHTC) کراچی کے سپرد کر دیا گیا ہے۔
مزید یہ کہ متعلقہ ایجنٹس اور دیگر افراد کے کردار کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔