وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اقتصادی سروے پیش کردیا، معاشی ترقی کی شرح 3.7 فیصد
اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے قومی اقتصادی سروے پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ رواں مالی سال کے دوران پاکستان کی معیشت نے 3.7 فیصد کی شرح سے ترقی حاصل کی، جو گزشتہ چار سالوں میں سب سے زیادہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ مالی سال کے آغاز میں مختلف معاشی و عالمی غیر یقینی صورتحال، مون سون بارشوں اور عالمی سطح پر ٹیرف کے نفاذ نے معیشت کو متاثر کیا، تاہم حکومت ان چیلنجز سے مؤثر انداز میں نمٹنے میں کامیاب رہی۔
وزیر خزانہ کے مطابق مشرق وسطیٰ کی صورتحال نہ ہوتی تو معاشی شرح نمو 4 فیصد سے بھی تجاوز کر سکتی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی مجموعی معیشت کا حجم 452 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا ہے جبکہ فی کس سالانہ آمدن 1901 ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ زراعت کے شعبے میں 2.89 فیصد گروتھ ریکارڈ کی گئی، جبکہ ڈیری اور لائیو اسٹاک کا زرعی معیشت میں 60 فیصد حصہ ہے۔ اسی طرح سیمنٹ سیکٹر میں 10 فیصد اور فرٹیلائزر سیکٹر میں 17 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ جولائی تا مارچ کرنٹ اکاؤنٹ 72 ملین ڈالر سرپلس رہا جبکہ ٹیکس محصولات میں 11.3 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ افراطِ زر میں گزشتہ دو سال کے دوران مسلسل کمی دیکھی گئی ہے۔
وزیر خزانہ کے مطابق فری لانسرز کی برآمدات 900 ملین ڈالر تک پہنچ چکی ہیں جبکہ آئی ٹی برآمدات 4.5 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔ کھیلوں کی صنعت کی برآمدات 3 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب ڈالر سے زائد ہیں اور توقع ہے کہ جون کے آخر تک یہ 18 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گے۔ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس میں 12.7 ارب ڈالر کی تاریخی سطح ریکارڈ کی گئی ہے۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے جبکہ رواں سال 11 نئی کمپنیوں کی لسٹنگ ہوئی ہے۔ ملک میں 39 ہزار سے زائد نئی کمپنیاں رجسٹر ہو چکی ہیں۔
انہوں نے متحدہ عرب امارات کے ساتھ معاشی تعلقات کو سراہتے ہوئے کہا کہ یو اے ای نے مشکل وقت میں پاکستان کی معیشت کو سہارا دیا ہے۔