شہر قائد کی رات کی خاموش فضاؤں میں اس وقت دلکش مناظر دیکھے گئے جب شہابِ ثاقب آسمان پر چمکتے ہوئے زمین کی طرف گرتے نظر آئے۔ کراچی کے مختلف علاقوں میں شہریوں نے ان مناظر کو نہ صرف اپنی آنکھوں سے دیکھا بلکہ موبائل فون کیمروں میں قید بھی کر لیا۔ شہابِ ثاقب کا یہ شاندار نظارہ رات 2 بج کر 43 منٹ پر دیکھا گیا جس کے بعد سوشل میڈیا پر ویڈیوز وائرل ہو گئیں۔
کراچی میں گراں فروشوں کے خلاف مہم جاری، 16 روز میں 3 کروڑ 41 لاکھ روپے کے جرمانے
عینی شاہدین کے مطابق شہابِ ثاقب آسمان پر ٹوٹتے تاروں کی طرح چمکتے ہوئے گزرے اور فضا میں خوبصورت روشنی بکھیرتے چلے گئے۔ شہریوں نے اس منظر پر خوشگوار حیرت اور مسرت کا اظہار کیا۔
ماہرینِ فلکیات کے مطابق شہابِ ثاقب دراصل سورج کے گرد گھومنے والے وہ چھوٹے اجرام فلکی ہیں جو زمین کی کششِ ثقل کی وجہ سے اس کی فضا میں داخل ہوتے ہیں۔ جب یہ زمین کی فضا میں داخل ہوتے ہیں تو رگڑ اور حرارت کے باعث دہکنے لگتے ہیں اور روشنی کا حسین منظر تخلیق کرتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق شہابِ ثاقب یا "سنگِ شہاب” زمین کی فضا میں بلند ترین مقام سے پست ترین مقام تک روشنی کی لکیر بناتے ہیں، جسے عام زبان میں "ٹوٹتا ستارہ” بھی کہا جاتا ہے۔
یہ بھی بتایا گیا ہے کہ شہابِ ثاقب کا زمین کی طرف آنا ایک قدرتی فلکیاتی عمل ہے۔ ناسا کے مطابق روزانہ تقریباً 100 سے 300 ٹن خلائی مٹی اور چھوٹے پتھر زمین کی طرف آتے ہیں، لیکن ان کا حجم ریت کے دانے سے بھی چھوٹا ہوتا ہے، اس لیے زمین تک پہنچنے سے پہلے ہی ختم ہو جاتے ہیں۔ تاہم، بڑے شہابِ ثاقب یا سیارچوں کے زمین سے ٹکرانے کی صورت میں شدید نقصان بھی ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق "شہاب” کا مطلب ہے دہکتا ہوا شعلہ، اور "ثاقب” کا مطلب ہے سوراخ کرنے والا — اس طرح "شہابِ ثاقب” ایک ایسا روشن شعلہ ہے جو فضا میں داخل ہو کر چمک پیدا کرتا ہے۔
کراچی کی فضاؤں میں اس دلکش منظر نے آسمان کو جگمگا دیا اور دیکھنے والوں کو حیرت میں ڈال دیا۔