فرانسیسی خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ کے مطابق، کینیڈا کے نو منتخب وزیرِاعظم مارک کارنی نے اپنی جیت کے بعد پہلی تقریر میں امریکا اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف سخت مؤقف اپناتے ہوئے کہا ہے کہ "کینیڈا اپنے وسائل، زمین اور خودمختاری پر کسی صورت قبضہ نہیں ہونے دے گا”۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ممکنہ کمی،ٹیک اور پے’ شرط پر او ایم اے پی کی مخالفت، مارکیٹ میں اجارہ داری کا خدشہ
59 سالہ مارک کارنی، جو ماضی میں بینک آف کینیڈا اور بینک آف انگلینڈ جیسے بڑے مالیاتی اداروں کے سربراہ رہ چکے ہیں، نے کہا کہ "ہم امریکی صدر ٹرمپ کو اپنے ملک پر غلبہ پانے کی اجازت نہیں دیں گے، کینیڈا کے عوام متحد ہیں”۔
کارنی نے اپنی پارٹی کے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "یہ کینیڈا کے لیے سیاہ دن ہیں جو ایک ایسے ملک کی جانب سے پیدا کیے جا رہے ہیں جس پر اب ہم اعتبار نہیں کر سکتے”۔ انہوں نے کہا کہ "اگر ٹرمپ نے دستانے اتار دیے ہیں تو ہم بھی تیار ہیں، جیسے ہاکی میں ہم فتح حاصل کرتے ہیں ویسے ہی تجارت میں بھی ہم جیتیں گے”۔
کارنی نے مزید کہا کہ "امریکا کی جانب سے کینیڈا کو تجارتی جنگ میں دھکیلنے کی صورت میں کینیڈین عوام اور حکومت بھرپور جواب دیں گے”۔
یاد رہے کہ مارک کارنی نے لبرل پارٹی کے اندر ہونے والے قیادت کے مقابلے میں کرسٹیا فری لینڈ کو شکست دی، جو کئی برسوں سے پارٹی کی سینئر قیادت کا حصہ رہی ہیں۔ کارنی نے تقریباً 1 لاکھ 52 ہزار ووٹوں میں سے 85.9 فیصد ووٹ حاصل کیے، جبکہ فری لینڈ کو صرف 8 فیصد ووٹ ملے۔
تازہ ترین عوامی جائزوں کے مطابق، مارک کارنی کی ٹرمپ مخالف پالیسی نے کینیڈا کے عوام میں مقبولیت حاصل کی ہے۔ اینگس ریڈ پولنگ کے ایک حالیہ سروے میں 43 فیصد کینیڈین عوام نے کارنی پر ٹرمپ سے نمٹنے کے لیے بھروسہ ظاہر کیا، جب کہ 34 فیصد نے کنزرویٹو پارٹی کے پیئر پوئیلیور کی حمایت کی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کارنی کا سخت، دلیرانہ مؤقف لبرل پارٹی کو دوبارہ عوامی حمایت دلانے میں مدد دے سکتا ہے۔ اس سے قبل وزیرِاعظم جسٹن ٹروڈو کے مستعفی ہونے کے بعد پارٹی کمزور ہو گئی تھی، لیکن مارک کارنی کی قیادت اور امریکی صدر ٹرمپ کے بڑھتے دباؤ کے خلاف سخت پیغام نے فضا بدل دی ہے۔
کارنی نے اپنے خطاب میں کہا کہ "کینیڈا کے عوام کو اپنے ہمسایہ ملک کے بڑھتے خطرے کا مقابلہ کرنا ہوگا اور ہم اس جنگ میں سرخرو ہوں گے”۔
مارک کارنی نے پہلے بین الاقوامی مالیاتی اداروں میں خدمات انجام دیں اور بعد ازاں اقوام متحدہ کے ماحولیاتی سفیر کے طور پر کام کیا۔ وہ کبھی کسی عوامی عہدے پر فائز نہیں رہے، لیکن ان کے تجربے کو کینیڈین معیشت اور خارجہ پالیسی کے لیے مضبوط ہتھیار سمجھا جا رہا ہے۔
تاہم، کنزرویٹو پارٹی پہلے ہی ان پر عہدوں کی تبدیلی اور اپنی قابلیت کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کے الزامات لگا رہی ہے، جس سے آئندہ انتخابات میں مقابلہ مزید سخت ہو گیا ہے۔