ٹرمپ، زیلنسکی اور روس یوکرین جنگ، عالمی سیاست اور جوہری خطرات پر ایک نئی بحث

ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات نے بین الاقوامی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی ہے، خاص طور پر یوکرین-روس جنگ کے حوالے سے۔ دبئی میں ایک گفتگو کے دوران ٹرمپ نے زیلنسکی کو خبردار کیا کہ وہ ’تیسری جنگِ عظیم کے ساتھ جوا کھیل رہے ہیں‘۔
دبئی ٹیسٹ آسٹریلوی کپتان اسٹیو اسمتھ کا وکٹ سے متعلق بڑا بیان، پہلے بیٹنگ کا فیصلہ

ٹرمپ نے اس بات پر زور دیا کہ یوکرین اور روس کی جنگ کبھی ہونی ہی نہیں چاہیے تھی کیونکہ دونوں قوموں کی تاریخ، ثقافت اور روایات ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مغربی طاقتوں نے دانستہ طور پر پیوٹن کو اکسایا اور اس تنازع کو بڑھاوا دیا۔

اس سے قبل ایڈورڈ اسنوڈن بھی "فائیو آئیز” انٹیلی جنس نیٹ ورک کے بارے میں انکشافات کر چکے ہیں، جس میں امریکا، برطانیہ، آسٹریلیا، کینیڈا اور نیوزی لینڈ شامل ہیں۔ کچھ مبصرین کا ماننا ہے کہ ٹرمپ کے متنازع اقدامات سے یہ نیٹ ورک کمزور ہورہا ہے، جو کہ بعض ممالک کے لیے باعثِ راحت ہو سکتا ہے۔

ٹرمپ نے اپنی دوسری مدتِ صدارت کے دوران بھی نیٹو پر شدید تنقید کی تھی اور اب ان کا مؤقف ہے کہ یوکرین کی مدد کے بجائے امریکا کو اپنے وسائل محفوظ رکھنے چاہئیں۔ ان کے بقول، یہ جنگ مغرب کی چال کا حصہ ہے، بالکل اسی طرح جیسے افغانستان، عراق اور ویتنام کو جنگ میں دھکیلا گیا تھا۔

مبصرین کے مطابق برطانیہ اور فرانس یوکرین کی مدد میں پیش پیش ہیں تاکہ زیلنسکی کی پوزیشن مستحکم ہو، جبکہ روس اسے خطرناک قدم قرار دے رہا ہے۔ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یوکرین نے بیرونی ہتھیاروں کا استعمال جاری رکھا تو یہ تنازع مزید شدت اختیار کر سکتا ہے اور جوہری جنگ کے امکانات بھی بڑھ سکتے ہیں۔

اس صورتحال میں ایک بڑا سوال یہ ہے کہ اگر عالمی سیاست میں اس تنازع کو ختم کرنے کی سنجیدہ کوششیں نہیں کی جاتیں تو اس کے طویل مدتی اثرات کیا ہوں گے؟

65 / 100

One thought on “ٹرمپ، زیلنسکی اور روس یوکرین جنگ، عالمی سیاست اور جوہری خطرات پر ایک نئی بحث

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!