اسلام آباد: پاکستان کی زیرو ٹالرنس پالیسی کے نتیجے میں ٹرانزٹ ٹریڈ کے نام پر ہونے والی اسمگلنگ میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ رواں مالی سال کے پہلے 7 ماہ میں افغان ٹرانزٹ ٹریڈ میں 69 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جو 1 ارب 48 کروڑ 40 لاکھ ڈالر کی نمایاں گراوٹ ظاہر کرتی ہے۔
کراچی: مصطفیٰ کے قتل کیس میں ملزم ارمغان پر مزید 4 مقدمات درج، کروڑوں کا غیر قانونی اسلحہ برآمد
ڈان نیوز کے مطابق جولائی 2024 تا جنوری 2025 کے دوران افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کا حجم 67 کروڑ 70 لاکھ ڈالرز رہا، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 2 ارب 16 کروڑ 10 لاکھ ڈالر تھا۔
مالی سال کے اعداد و شمار:
2023-24: افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کا حجم 2 ارب 88 کروڑ 70 لاکھ ڈالر۔
2022-23: افغان ٹرانزٹ ٹریڈ 7 ارب 9 کروڑ 50 لاکھ ڈالر تھی۔
حکومتی اقدامات:
حکومتی ذرائع کے مطابق ٹرانزٹ ٹریڈ کا غلط استعمال روکنے اور اسمگلنگ کے خلاف سخت کارروائیوں کے نتیجے میں یہ کمی دیکھنے میں آئی ہے۔
گزشتہ سال اپریل 2024 میں وزیر اعظم شہباز شریف نے اسمگلنگ کے خاتمے کے لیے اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی، جس میں اے ڈی خواجہ کی سربراہی میں قائم تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ پیش کی گئی۔ وزیر اعظم نے اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے فوج کے کردار کو سراہا اور سرحدی علاقوں میں نوجوانوں کو متبادل روزگار فراہم کرنے پر زور دیا۔
حکومت نے سخت مانیٹرنگ کے ذریعے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے غلط استعمال کو کم کرنے کے لیے موثر اقدامات کیے ہیں، جن کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔